اینٹی کرپشن : کرپشن میں ملوث افسروں کیخلاف گھیرا تنگ
پی ایچ اے میں سائن بورڈ ٹھیکوں کی مد میں کروڑوں کی کرپشن میں ڈائریکٹر ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر ز ، اکاؤنٹس آفس کا عملہ شامل،رجسٹری برانچ کے چار ملازمین زیر حراستنشترمیں لاکھوں کی انسولین ، ادویات چوری کی تحقیقات جاری، پندرہ کروڑ کی ریکوری، 270ملازمین کو جیل بھجوایا، ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن بشارت نبی کی دنیا سے گفتگو
ملتان (نعمان خان بابر سے )اینٹی کرپشن نے کرپشن میں ملوث افسروں اور ملازمین کے خلاف گھیرا مزید تنگ کردیا۔ پی ایچ اے میں سائن بورڈ کے ٹھیکوں کی مد میں کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن میں ڈائریکٹر ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر ز ، اکاؤنٹس آفس کا عملہ اور ہیڈ کلر ک شامل ، رجسٹری برانچ میں بھی کروڑوں روپے کی کرپشن پر چار ملازمین کو گرفتار کر کے انکوائری کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا۔ نشتر ہسپتال میں اسی لاکھ روپے کی انسولین چوری اور مختلف ادویات کی چوری پر بھی تحقیقات کر رہے ہیں اور اسی سلسلے میں لاکھوں مالیت کی ادویات برامد کر لی ہیں۔
تاہم مختلف کیسز میں پندرہ کروڑ روپے کی ریکوری کر کے سرکاری خزانے میں جمع کرائی اور دو سو ستر سرکاری ملازمین کو گرفتار کر کے جیل بھجوایا ،گزشتہ سال مختلف محکموں کے خلاف چار ہزار پانچ سو درخواستیں موصول ہوئیں جو ادارے پر اعتماد کا نتیجہ ہے ،اسی لیے شہری کسی بھی سرکاری محکمے کیخلاف شکایات پر اینٹی کرپشن رجوع کر یں ،میر ٹ پر کارروائی کریں گے ۔ان خیالات کا اظہار ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن بشارت نبی نے روزنامہ دنیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
واضح رہے کہ ملتان میں پی ایچ اے ، رجسٹری برانچ اور نشتر سپتال سے انسو لین کے ساتھ ساتھ ادویات کی چوری پر تحقیقات جاری ہیں اور اسی سلسلے میں ملزموں سے پندرہ کروڑ روپے کی ریکوری بھی کی گئی ہے اور موجودہ صورتحال میں تحقیقات کا دائرہ کار بھی مزید وسیع کر دیا گیا ہے ۔اس حوالے سے ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن بشارت نبی نے بتایا کہ گزشتہ سال مختلف محکموں کے خلاف ساڑھے چار ہزار شکایات موصول ہوئیں جس پر منظم انداز سے ریڈ کیے گئے ۔ بشارت نبی نے مزید کہا کہ شہری سرکاری محکموں کے خلاف شکایت پر اینٹی کرپشن میں درخواستیں دیں محکمہ میرٹ پر کارروائی کرے گا۔