ڈسپوزل اسٹیشنز کے گرد واٹر ٹریٹمنٹ منصوبہ شروع کرنیکی حکمت عملی تیار
ایشین ڈویلپمنٹ نے 60سے 80ارب کا تخمینہ لگایا،منصوبہ شروع کرنے کیلئے ورکنگ مکمل ،واسا بلوں کی ریکوری کیلئے سپیشل سکواڈ تشکیل دے دیا، ایم ڈی فیصل شوکت
ملتان (نعمان خان بابر سے )سورج میانی اور ہیڈ محمد والا کے ارد گرد سیورج کے گندے پانی سے سبزیوں کی کاشت ، تین مختلف ڈسپوزل اسٹیشن کے گرد واٹر ٹریٹمنٹ کا منصوبہ شروع کرنے کی حکمت عملی تیار ،ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے ساٹھ سے اسی ارب روپے کا تخمینہ لگا کر کام کے آغاز کے لئے ورکنگ مکمل کر لی۔ واٹر ٹریٹمنٹ کا منصوبہ حکومت کی ترجیح، تاہم واسا نے بلوں کی ریکوری کا ہدف پچیس کروڑ روپے پورا کرنے کے لئے اسپیشل سکواڈ بھی تشکیل دے دیا ادھوری سکیموں کے لئے ساڑھے نو کروڑ روپے جبکہ جبکہ چھے نئی سکیمیں شروع کرنے کے لئے چھبیس ارب روپے کا فنڈ منظور ،ٹینڈر ہوتے ہی نئے منصوبوں پر کام کا آغاز کر دیں گے لیکن پرانی سکیموں کو مکمل کرنے کے لئے نوے کروڑ روپے کا مزید فنڈ درکار جس کے لئے واسا نے حکومت کو درخواست کر دی۔
ایم ڈی واسا فیصل شوکت کی روزنامہ دنیا سے گفتگو تفصیل کے مطابق ملتان میں چند سال پہلے سورج میانی میں واٹر ٹرینٹ کا منصوبہ شروع کیا گیا اور بعد ازاں نہروں پر قائم تین مختلف ڈسپوزل اسٹیشن کے نزدیک بھی واٹر ٹریٹمنٹ کے منصوبوں کے حوالے سے حکمت عملی بنائی گئی تاہم فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث تینوں واٹر ٹریٹمنٹ کے منصوبوں پر کام کا آغاز نہ ہو سکا اور موجودہ صورتحال میں ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے اپنی ورکنگ مکمل کر لی ہے اور اس لحاظ سے تینوں ٹریٹمنٹ پلانٹ کا تخمینہ ساٹھ سے اسی ارب روپے لگایا گیا ہے جس کے ملتے ہی کام کا آغاز کر دیا جائے گا اس حوالے سے ایم ڈی واسا فیصل شوکت نے روزنامہ دنیا کو بتایا کہ سیوریج کے گندے پانی سے کاشت کی گئی فصلیں زہریلی ہیں جن کی کاشت سے مسائل آ رہے ہیں لیکن جلد ہی واٹر ٹرینمنٹ کے منصوبے پر کام شروع ہوتے ہی صورتحال کافی حد تک بہتر ہو جائے گی۔