دودھ بڑھانے والے ممنوعہ انجکشنز کی بلیک میں فروخت
انجکشن لگی بھینسوں کا دودھ انسانی صحت کیلئے سنگین خطرہ ،کارروائی کا مطالبہ
خانیوال (ڈسٹرکٹ رپورٹر، نامہ نگار) خانیوال اور گردونواح میں پابندی کے باوجود بھینسوں کے دودھ کی مقدار بڑھانے والے ممنوعہ انجکشنزکی بلیک میں فروخت جاری ہے ۔ گوالے میڈیکل سٹوروں اور ویٹرنری سنٹروں سے یہ انجکشن حاصل کر کے بھینسوں کو لگا رہے ہیں جس سے انسانی صحت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔محکمہ صحت اور لائیو سٹاک کی جانب سے دودھ بڑھانے والے انجکشنز کو مضر صحت قرار دے کر ان پر پابندی عائد کی گئی تھی، تاہم اس کے باوجود ضلع خانیوال میں ان کی فروخت جاری ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق انجکشن لگے جانوروں کے دودھ کے استعمال سے انسانی جسم میں مختلف بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ، خاص طور پر چھوٹے بچے اور بزرگ اس سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں کی عدم توجہی کے باعث یہ مضر صحت کاروبار دن بدن پھیلتا جا رہا ہے ۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ویٹرنری سنٹروں اور میڈیکل سٹوروں کی سخت مانیٹرنگ کی جائے اور ممنوعہ انجکشنز فروخت کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ۔