سیف سٹی 600کیمرے فعال،پٹرولنگ مزید سخت
سی آر او سمیت کمپیوٹر سے منسلک تمام شعبے ہی سیف سٹی میں منتقل، پتنگ بازی پر پابندی برقرار،منشیات وپتنگ فروشوں کیخلاف کارروائیاں، متعدد ملزم گرفتار چالان جمع کرانے میں سستی پر کئی تفتیشی افسرمعطل،ماڈل تھانوں سے تھانہ کلچر بدلا، ان کاؤنٹرز کئے ،پولیس پر اعتماد بحال ،سی پی او صادق علی ڈوگر ،روزنامہ دنیا سے خصوصی گفتگو
ملتان (نعمان خان بابر سے )سیف سٹی کے چھے سو کیمرے فعال ، کرائم کو کنٹرول کرنے کے لیے سی آر او اور کمپیوٹر سے منسلک تمام شعبے ہی سیف سٹی منتقل کر دئیے گئے تاہم شہر میں پتنگ بازی پر پابندی برقرار ، خلاف ورزی پر پتنگ فروشوں اور پتنگ بازوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ،آئس سمیت دیگر منشیات کے ڈیلروں کی پکڑ اور ان کاؤنٹرز سے صورتحال بہتر ۔پٹرولنگ کا نظام موثر ہونے سے کرائم گزشتہ دو سالوں کی نسبت تتالیس فیصد کم۔ مقدمے کے چالان جمع کرانے میں سستی پر کئی تفتیشی افسران کو معطل کیا ماڈل تھانوں سے تھانہ کلچر تبدیل ہونے پر شہریوں کا پولیس پر اعتماد کافی حد تک بحال ہو گیا۔ سی پی او صادق علی ڈوگر کی روزنامہ دنیا سے گفتگو ۔تفصیل کے مطابق ملتان میں کرائم کی روک تھام کے لیے چھے سو کیمرے لگا کر سیف سٹی کو فعال کیا گیا ہے تاہم موجودہ صورتحال میں سی آر او سمیت کمپیوٹر سے منسلک تمام شعبے ہی سیف سٹی میں منتقل کر دئیے گئے ہیں جس سے تفتیش کے مسائل اور گینگز کی گرفتاری میں مدد مل رہی ہے ۔اس حوالے سے سی پی او صادق علی ڈوگر کا کہنا تھا کہ کرائم کو کنٹرول کرنا ترجیح ہے جس کے لیے پٹرولنگ کی موثر حکمت عملی تیار کر کے عمل درآمد شروع کر دیا ہے تاہم شہر میں پتنگ بازی کی اجازت نہیں اس لیے پتنگ بازوں اور پتنگ فروشوں کے خلاف ڈرون کیمروں کی مدد سے کریک ڈاؤن کر رہے ہیں، صادق علی ڈوگر نے کہا کہ آئس سمیت دیگر منشیات کی فروخت پر درجنوں ملزموں کو گرفتار کیا اور پولیس ان کاؤنٹرز بھی کئے جس سے منشیات کی روک تھام کے حوالے سے صورتحال بہتر ہو گئی ہے ۔