افغانستان سے تجارت کی بندش مایوس کن،داروخان

افغانستان سے تجارت کی بندش مایوس کن،داروخان

تجارت وسیاست کو الگ رکھنے کی ضرورت،10ہزار کنٹینرز پھنس چکے

ملتان (لیڈی رپورٹر)سابق صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور یونائٹیڈ بزنس گروپ کے متحرک رہنما انجینئر دارو خان اچکزئی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار تجارت کی گزشتہ تین ماہ سے جاری بندش کو علاقائی معیشت کیلئے انتہائی تباہ کن قرار دیا ہے ۔ انہوں نے حکام پر زور دیا کہ اس فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے تاکہ لاکھوں متاثرہ افراد کے روزگار کو بچایا جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ اس بندش سے نہ صرف معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے بلکہ خطے کے کروڑوں غریب افراد کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

تجارت کو سیاست سے الگ رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس تعطل کے باعث بے شمار خاندان اپنے بچوں کیلئے خوراک اور تعلیم کی سہولیات فراہم کرنے سے قاصر ہو چکے ہیں۔انجینئر دارو خان اچکزئی کے مطابق اس وقت پاکستان میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے 10 ہزار سے زائد کنٹینرز پھنسے ہوئے ہیں جبکہ وسطی ایشیا سے آنے والے پاکستانی ٹرانزٹ کارگو کے ہزاروں ٹرک افغانستان میں رکے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی افغانستان کو سالانہ برآمدات کا حجم 1.5 ارب ڈالر ہے اور گزشتہ تین ماہ کی بندش سے پاکستانی برآمد کنندگان کو 375 ملین ڈالر کا براہِ راست نقصان ہو چکا ہے ، جبکہ وسطی ایشیا کی 900 ملین ڈالر کی برآمدی مارکیٹ بھی متاثر ہوئی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں