کمرشل،ویئر ہائوس منصوبے شجرکاری سے مشروط
ہر منصوبے میں6فٹ قد کے درخت لگانا لازمی قرار،درختوں کی دیکھ بھال ، کانٹ چھانٹ متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ، پی ایچ اے باقاعدگی سے مانیٹرنگ کریگاماحولیاتی این او سی تین سال کیلئے جاری ہوگا،کمشنر عامر کریم خان ،ڈویژنل ماحولیاتی کمیٹی کا اجلاس، 72کیسز پر غور، ملتان کا ایک کیس مسترد، 15 منظور
ملتان(وقائع نگار خصوصی)کمشنر عامر کریم خاں کی زیر صدارت ڈویژنل ماحولیاتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ ماحولیات کی جانب سے مجموعی طور پر 72 کیسز پیش کئے گئے ۔ اجلاس میں ملتان سے 19 جبکہ خانیوال سے 53 کیسز زیر غور آئے ۔اجلاس میں ملتان کا ایک کیس مسترد کر دیا گیا، جبکہ 15 کیسز کی منظوری دی گئی اور 3 کیسز کو کنڈیشنل ڈیفر کیا گیا، جنہیں مطلوبہ دستاویزات مکمل ہونے پر منظور کیا جائے گا۔ خانیوال کے 48 کیسز کی منظوری دی گئی جبکہ 5 کیسز کو کنڈیشنل ڈیفر کیا گیا، جو شرائط پوری کرنے پر اپروو ہوں گے ۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کمرشل اور ویئر ہاؤس منصوبوں کی منظوری شجرکاری سے مشروط ہوگی۔ ہر منظور شدہ منصوبے میں کم از کم چھ فٹ قد کے درخت لگانا لازم قرار دیا گیا ہے ۔ درختوں کی دیکھ بھال اور مینٹی نینس متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہوگی۔کمشنر عامر کریم خاں نے ہدایت کی کہ تمام اپروولز کی کاپی پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے ) کو فراہم کی جائے گی، جو باقاعدگی سے مانیٹرنگ اور انسپکشن کرے گی۔ ماحولیاتی این او سی تین سال کے لئے جاری کیا جائے گا، جبکہ رینیول کے وقت شجرکاری کی انسپکشن اور پی ایچ اے کی سرٹیفکیشن لازمی ہوگی۔کمشنر نے واضح کیا کہ اگر درخت برقرار اور صحت مند پائے گئے تو این او سی کی تجدید کی جائے گی۔، بصورت دیگر رینیول نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور گرین پاکستان وزیراعلیٰ پنجاب کا ویژن ہے ، جس کے تحت شجرکاری کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔