وہاڑی ،آلو کا بدترین بحران، کا شتکار شدید مالی نقصان کا شکار
قائمہ کمیٹی نیشنل فوڈ سکیورٹی کے اجلاس میں قابو پانے کیلئے تجاویز پر اتفاق
وہاڑی (نمائندہ خصوصی)ملک بھر میں آلو کے کاشتکار شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔ اکتوبر سے اب تک آلو کی قیمتیں پیداواری لاگت پوری نہیں کر سکیں، جس سے کاشتکار، کولڈ اسٹوریج مالکان اور آڑھتی اربوں روپے کے نقصان میں ہیں۔ افغانستان بارڈر کی بندش اور ایران کے راستے مہنگی ایکسپورٹ کی وجہ سے کھپت متاثر ہوئی ہے ۔قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کے چیئرمین سید حسین طارق کی زیر صدارت اجلاس میں بیس سے زائد اراکین، وزارتیں اور متعلقہ ادارے شریک ہوئے ۔ پوٹیٹو گرورز کوآپریٹو سوسائٹی نے آلو کی ویلیو ایڈیشن اور مقامی پلانٹس قائم کرنے کی تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں سفارش کی گئی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں رمضان میں آلو کی خریداری کر کے غریب اور سفید پوش افراد کو فراہم کریں، جبکہ بیج کی مقامی پیداوار کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔