بلند و بالا عمارتوں کے سیفٹی آڈٹ کا آغاز
50فٹ سے زائد چار درجن عمارتوں میں دوران آڈٹ سیفٹی اقدامات نہ ہونے کا انکشاف ، حادثات کے خطرات منڈلانے لگے ، متعلقہ بلڈنگ مالکان کو نوٹسز جاری حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے سبب 9عمارتیں اے ، 5بی ، باقی ماندہ سی کیٹگری میں ڈال دی گئیں،ایک سال میں آتشزدگی کے 1321واقعات رپورٹ، حسین میاں
ملتان (نعمان خان بابر سے )پنجاب حکومت کی ہدایات پر ملتان میں بھی اونچی عمارتوں میں سیفٹی آڈٹ کا آغاز ، پچاس فٹ سے زائد پچاس اونچی عمارتوں میں آڈٹ کے دوران سیفٹی اقدامات نہ ہونے کا انکشاف ، حادثات کے خطرات منڈلانے پر متعلقہ بلڈنگز مالکان کو نوٹسز جاری ۔ دو ہفتوں میں سیفٹی انتظامات نہ کرنے پر پلازوں کو سیل کر دیں گے ۔ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر حسین میاں کی روزنامہ دنیا سے گفتگو تفصیل کے مطابق ملتان میں ایک سو تیرہ کمرشل پلازے ہیں جن کی عمارتیں پچاس فٹ سے زیادہ اونچی ہیں جن میں سے پچاس کا سیفٹی آڈٹ کیا گیا ہے تاہم سیفٹی آڈٹ کے دوران کسی بھی عمارت میں سیفٹی اقدامات مکمل نہیں پائے گئے جس کی وجہ سے نو عمارتوں کو اے کیٹگری، پانچ کو بی جبکہ باقی عمارتوں کو سی اور ڈی کیٹگری میں ڈال کر متعلقہ بلڈنگز کے مالکان کو نوٹسز جاری کر دیئے گئے ہیں ۔
اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسرون ون ٹو ٹو حسین میاں نے روز نامہ دنیا کو بتایا کہ گزشتہ سال شہر میں آگ لگنے کے 1321 واقعات رونما ہوئے جن میں سے 613 واقعات شارٹ سرکٹ سے ہوئے جس نے 541 کمرشل پوائنٹس کو اپنی لپیٹ میں لیا جس سے جانی کے ساتھ کروڑوں مالیت کا بھی نقصان ہوا اور موجودہ صورتحال میں اونچے پلازوں میں سیفٹی اقدامات نہ ہونے اور ریسکیو کے پاس صرف سترہ فائر وہیکلز ہونے سے مسائل بڑھ سکتے ہیں جس پر شہریوں کو بھی تحفظات ہیں دوسری جانب حسین آگاہی بازار اور اندرون شہر کے پلازوں کے باہر تجاوزات کی بھرمار ہے اور اسی لئے پلازوں میں آگ لگنے کی صورت میں تنگ گلیوں کے باعث بھی ریسکیو آپریشن کے حوالے سے امدادی ٹیموں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس پر شہریوں نے بھی حکومت سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔