ہسپتال میں علاج نہ ملنے پر نوجوان جاں بحق،ورثاء کا احتجاج
ڈیوٹی ڈاکٹر سمیت 11 رکنی عملہ معطل، تحقیقات کیلئے انکوائری کمیٹی تشکیل
مظفرگڑھ (سٹی رپورٹر)سرکاری ہسپتال میں مبینہ طور پر بروقت طبی امداد فراہم نہ کیے جانے کے باعث نوجوان مریض جانبر نہ ہو سکا، جس پر لواحقین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ پر غفلت کے الزامات عائد کیے ہیں۔ واقعہ دیہی مرکز صحت روہیلانوالی میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب پیش آیا، جہاں شعیب کو طبیعت خراب ہونے پر منتقل کیا گیا تھا۔لواحقین کے مطابق مریض کو ہسپتال لانے پر وہاں کوئی ڈیوٹی ڈاکٹر موجود نہ تھا اور بروقت علاج نہ ملنے کے باعث شعیب دم توڑ گیا۔ واقعے کے بعد لواحقین نے ہسپتال میں احتجاج کیا جس کی اطلاع پر سی ای او ہیلتھ مظفرگڑھ ڈاکٹر فیاض گوپانگ موقع پر پہنچ گئے اور صورت حال کا جائزہ لیا۔ابتدائی انکوائری کے بعد سی ای او ہیلتھ نے غفلت ثابت ہونے پر ڈیوٹی ڈاکٹر سمیت 11 رکنی عملے کو معطل کر دیا۔ معطل ہونے والوں میں ڈیوٹی ڈاکٹر اظہر حسین بھٹہ، دو ڈسپنسرز سجاد احمد اور غلام مصطفٰی، دو چارج نرسز شگفتہ نورین اور عارفہ بی بی، ایک مڈوائف ناصرہ بی بی، ٹی او شاہد اقبال اور چار وارڈ سرونٹس محمد شاہد، مزمل، اظہر عباس اور کنیز بی بی شامل ہیں۔محکمہ صحت کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے پروگرام ڈائریکٹر محکمہ صحت اور ڈی ایچ او ایچ آر پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے ۔ انکوائری رپورٹ آنے کے بعد ذمہ داران کے خلاف مزید قانونی اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ واقعے کے بعد شہریوں نے دیہی مراکز صحت میں ڈاکٹروں کی حاضری یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے ۔