ویسٹ مینجمنٹ ملازمین 3 ماہ کی تنخواہوں سے محروم احتجاج کی دھمکی

ویسٹ مینجمنٹ ملازمین 3 ماہ کی تنخواہوں سے محروم احتجاج کی دھمکی

گھروں کے چولہے ٹھنڈے ،بلز کی عدم ادائیگی کے سبب میٹر منقطع، بچوں کی فیسیں ادا کرنے سے محروم،رمضان کے راشن کارڈ، میڈیکل کارڈز بھی نہیں بنائے گئے

ملتان (لیڈی رپورٹر)آل پاکستان فیڈریشن آف یونائیٹڈ ٹریڈ یونینز کے ڈویژنل صدر شیخ محمد اسماعیل، وائس چیئرمین حاجی محمد قاسم، سینئر نائب صدر ملتان ڈویژن محمد طفیل قریشی ہاشمی اور ڈپٹی جنرل سیکرٹری وسیم اعجاز نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ویسٹ مینجمنٹ انتظامیہ اور ٹھیکیداروں کی وعدہ خلافیوں اور ورکروں کی معاشی قتل کے خلاف 9 فروری کو احتجاجی مظاہرہ اور کام چھوڑ ہڑتال کی مکمل حمایت کی جاتی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ کمپنی اور ٹھیکیداروں کی جانب سے ورکروں کو تین ماہ سے تنخواہیں نہیں دی گئیں، جس کی وجہ سے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ، گھروں کے میٹر کٹ گئے اور بچوں کو سکولوں سے نکالنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔مقررین نے مزید کہا کہ رمضان المبارک کے موقع پر ورکروں کے راشن کارڈ اور میڈیکل کارڈز ابھی تک نہیں بنائے گئے ، اور کنٹریکٹ ملازمین کو صاف ستھرا پنجاب کا بونس بھی نہیں دیا گیا،

جبکہ مستقل ملازمین کو 13ویں تنخواہ مل چکی ہے ۔ گورنمنٹ کی تنخواہ 40 ہزار روپے مقرر ہے ، لیکن ٹھیکیدار 18 سے 25 ہزار روپے کٹوتی کر رہے ہیں، یہی صورتحال بڑی فیکٹریوں میں بھی ہے ۔انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب ، کمشنر ملتان اور ڈی سی ملتان سے فوری طور پر تین ماہ کی تنخواہیں اور 13واں بونس جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ بصورت دیگر، احتجاجی تحریک پورے جنوبی پنجاب میں پھیلانے اور قانونی راستہ اختیار کرنے کی دھمکی دی گئی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں