مظفرگڑھ میں آم کی پیداوار اور پیسٹ مینجمنٹ پر سیمینار
ماہرین نے جدید ٹیکنالوجی، موسمیاتی چیلنجز ، برآمدات میں اضافہ پر روشنی ڈالی
مظفرگڑھ (سٹی رپورٹر)محکمہ زراعت پنجاب کے شعبہ پیسٹ وارننگ کے زیر اہتمام مظفرگڑھ میں آم کی پیسٹ مینجمنٹ، کلائمٹ چینج اور سسٹینیبل پروڈکشن کے موضوع پر اہم سیمینار منعقد ہوا۔ اس موقع پر ممبر صوبائی اسمبلی عون حمید ڈوگر، سپیشل سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب سرفراز حسین مکسی، ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ عثمان طاہر جپہ، اور ڈائریکٹر جنرل پیسٹ وارننگ پنجاب ڈاکٹر عامر رسول سمیت دیگر نے شرکت کی۔مقررین نے کہا کہ آم جنوبی پنجاب کی پہچان اور معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے بغیر عالمی منڈی میں مسابقت ممکن نہیں۔ حکومت پنجاب باغبانوں کو معیاری پیداوار، برآمدات میں اضافہ اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکمل معاونت فراہم کر رہی ہے ۔ماہرین نے بتایا کہ پنجاب میں آم تقریباً اڑھائی لاکھ ایکڑ رقبہ پر کاشت کیا جا رہا ہے اور سالانہ پیداوار 14 لاکھ ٹن کے قریب ہے ، جبکہ ملکی پیداوار میں اس کا حصہ بڑا ہے ۔ پاکستان اپنی مجموعی آم کی پیداوار کا 8 سے 10 فیصد برآمد کرتا ہے ، جسے بعد از برداشت انتظامات، ویلیو ایڈیشن اور کولڈ چین کے ذریعے بڑھایا جا سکتا ہے ۔ آئی پی ایم (IPM)، فیرومون ٹریپس، متوازن کھاد، بروقت سپرے شیڈول، شیڈ مینجمنٹ اور ہائی ایفیشنسی اریگیشن جیسے اقدامات اپنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔