مضبوط پراسیکیوشن کے بغیر منشیات کا خاتمہ ناممکن، مقررین
بیانات کی تیاری میں معمولی کوتاہی مقدمے پر اثرانداز ہوسکتی ہے
ملتان (لیڈی رپورٹر)پنجاب پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام انویسٹی گیشن افسروں اور پراسیکیوٹرز کے لئے منعقدہ تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا آخری روز منشیات کے مقدمات اور مؤثر پراسیکیوشن کے موضوع سے مختص تھا۔ سینئر ایڈووکیٹ شوکت علی غوری اور انچارج پراسیکیوشن ہائی کورٹ ملتان عبدالودود نے خطاب کیا جبکہ میزبان کے فرائض ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر امتیاز رسول چیمہ نے انجام دیئے ۔مقررین نے کہا کہ مضبوط اور مؤثر پراسیکیوشن کے بغیر معاشرے سے منشیات کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹھوس شواہد، مربوط تفتیش اور قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری ہی ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ضمانت ہے ۔ تربیتی سیشن میں فوجداری ضابطہ کار کی دفعہ 342 کے بیانات کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اور واضح کیا گیا کہ ان بیانات کی تیاری میں معمولی کوتاہی بھی مقدمے کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہے ۔اس موقع پر تین اہم رجسٹرز کی درست دیکھ بھال پر بھی خصوصی زور دیا گیا جن میں رجسٹر نمبر 2 (آمد و روانگی)، رجسٹر نمبر 19 (مال مقدمہ کی تفصیل) اور رجسٹر نمبر 21 (موومنٹ رجسٹر) شامل ہیں۔