تعلیمی اداروں میں منشیات کا بڑھتا رجحان، والدین شدید پریشان
طلبہ میں چرس، آئس اور الیکٹرک سگریٹ کا استعمال، ڈوپ ٹیسٹ کا مطالبہ
گگو منڈی (نامہ نگار)تعلیمی اداروں میں طلبہ کے اندر منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال نے تشویشناک صورتحال اختیار کر لی ہے جس پر والدین، اساتذہ اور سماجی حلقوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے ۔ذرائع کے مطابق سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے اطراف میں چرس، شراب، آئس اور الیکٹرک سگریٹ کی باآسانی دستیابی نے نوجوانوں کو اس ناسور کی طرف مائل کر دیا ہے ۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمری میں منشیات کا استعمال نہ صرف تعلیمی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے بلکہ ذہنی اور جسمانی صحت پر بھی تباہ کن اثرات مرتب کرتا ہے ۔والدین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر تعلیمی اداروں میں طلبہ کے ڈوپ ٹیسٹ کرائے جائیں تاکہ منشیات کے عادی افراد کی نشاندہی ہو سکے۔ اور بروقت علاج و رہنمائی فراہم کی جا سکے ۔دوسری جانب ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ سخت اقدامات کے ساتھ ساتھ طلبہ کی کونسلنگ، آگاہی مہمات اور مثبت سرگرمیوں کا فروغ بھی ضروری ہے تاکہ نوجوان نسل کو منفی رجحانات سے بچایا جا سکے ۔ شہریوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کے اطراف منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔