کوٹ ادو:135کنال اراضی تنازع، معاملہ عدالت پہنچ گیا

کوٹ ادو:135کنال اراضی تنازع، معاملہ عدالت پہنچ گیا

غلام مصطفیٰ کھر اور گورمانی برادری آمنے سامنے ، حکم امتناعی، کمیشن تشکیل

کوٹ ادو (ڈسٹرکٹ رپورٹر، نامہ نگار) موضع کھر غربی میں 135 کنال اراضی کے تنازع نے سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے جس پر سابق گورنر پنجاب ملک غلام مصطفیٰ کھر کی جانب سے ملکیتی و قبضہ کے دعوے کے بعد معاملہ عدالت پہنچ گیا ہے ۔تفصیل کے مطابق گورمانی برادری کے رہائشی رحیم بخش، محمد امجد، محمد رضوان، محمد زمان، محمد حسنین، علی حمزہ ودیگر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ متنازعہ اراضی وہ تقریباً 8 سال قبل باقاعدہ خرید کر اس پر قابض ہیں اور ان کے نام اندراج ملکیت بھی موجود ہے ۔ بعض مدعیان نابالغ ہیں جن کی پیروی رحیم بخش بطور رفیق مقدمہ کر رہے ہیں۔عدالتی دعویٰ میں غلام مصطفیٰ کھر، ان کے بیٹے اور دیگر افراد کو فریق بنایا گیا ہے ۔ مدعیان کے مطابق اراضی ابتدائی طور پر غلام مصطفیٰ کھر کی ملکیت تھی جسے بعد ازاں بھٹی برادران کو فروخت کیا گیا اور پھر انہوں نے زمین خریدی۔مدعیان نے الزام عائد کیا کہ مخالف فریق نے مسلح گارڈز اور ساتھیوں کے ہمراہ زبردستی قبضہ کی کوشش کی اور پولیس اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے گرفتاری بھی کروائی۔ ان کا کہنا ہے کہ پٹواری پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کے باوجود رپورٹ میں ان کی ملکیت تسلیم کی گئی۔عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد 8 مئی تک حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے کمیشن تشکیل دے دیا ہے اور فریقین کو اراضی میں مداخلت سے روک دیا ہے ۔ کیس سول جج درجہ اول کوٹ ادو شہزاد باسط کی عدالت میں زیر سماعت ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں