آم کے باغات پر کالے تیلے کا حملہ ،پیداوار میں کمی کا خدشہ

آم کے باغات پر کالے تیلے کا حملہ ،پیداوار میں کمی کا خدشہ

سالانہ 18لاکھ 44ہزار میٹرک ٹن پیداوار والی فصل موسمی تبدیلی کا شکار

ملتان ( جام بابر سے )ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع میں موسمی تبدیلیوں کے باعث آم کے باغات پر کالے تیلے اور مینگو ہر پر کا حملہ شدت اختیار کر گیا ہے جس کی وجہ سے فروری کے آخری ہفتے میں نکلنے والے پھولوں کے شگوفے بٹور کی شکل اختیار کر گئے ہیں جس سے پیداوار میں بھی 40 فیصد کمی کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں ایک لاکھ انسٹھ ہزار ایکڑ رقبے پر آم کے باغات ہیں اور ان میں ہر سال سالانہ دو فیصد تک اضافہ ہو رہا ہے جن سے سالانہ اوسطااٹھارہ لاکھ چوالیس ہزار میٹرک ٹن آم کی پیداوار ہوتی تھی لیکن گزشتہ کئی برسوں سے موسم میں تبدیلیوں کے باعث آم کے باغات شدید متاثر ہو رہے ہیں موسم میں غیر معمولی طور پر فروری اور اپریل میں نمی اور خشکی کے ساتھ سردی اور گرمی کی آنکھ مچولی کے باعث مینگو ہار پر اور کالے تیلے کا حملہ شدت اختیار کر رہا ہے جس کے باعث ایسی فلاورنگ جو فروری کے آخری دنوں میں آم کے باغات پر ہوتی ہے وہ بٹور کی شکل اختیار کر جاتی ہے جس سے نہ صرف پیداوار میں کمی ہوتی ہے بلکہ اختیار کرنے سے بیماری کا اثر بھی زیادہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے آم کے باغات کو شدید نقصان پہنچنے پر باغبانوں کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں اور رواں سال پیداوار میں 40 فیصد تک کمی کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے لیکن جسے کاروں کے مطابق محکمہ زراعت کی جانب سے موسمی تغیرات سے نمٹنے اور ایسے پلانٹس کی نرسری تیار کرنے ناکام ہیں جو کہ ان حالات کے خلاف قوت مدافعت رکھتے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں