ٹیکس وصولی پر تنازع،ٹریکٹرٹرالی مالکان،سابق کونسلرز کااحتجاج

ٹیکس وصولی پر تنازع،ٹریکٹرٹرالی مالکان،سابق کونسلرز کااحتجاج

ناجائز وصولیوں کے خلاف شکایت پر ڈپٹی کمشنر کا انکوائری کا حکم ، الزامات کی تردید

کوٹ ادو(ڈسٹرکٹ رپورٹر ،نامہ نگار) معدنیات اور ایکسائز ٹیکس کی مبینہ غیر قانونی وصولیوں کے خلاف ٹریکٹر ٹرالی مالکان اور سابق کونسلرز نے شدید احتجاج کرتے ہوئے پریس کانفرنس کی، جبکہ ڈپٹی کمشنر نے معاملے کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے ۔تفصیل کے مطابق ٹریکٹر ٹرالی مالکان کا کہنا ہے کہ مشرقی سائیڈ ریت گسر سے آنے والی گاڑیوں سے محکمہ معدنیات کے ٹھیکیدار کی جانب سے فی چکر دو مختلف مقامات پر 300، 300 روپے جبکہ ایکسائز کی طرف سے 800 روپے وصول کیے جا رہے ہیں، جسے وہ بھتہ خوری قرار دے رہے ہیں۔سابق کونسلرز جام ظفر عباس لاڑ اور مہر مجتبیٰ نے پریس کلب کوٹ ادو میں کہا کہ ریت کے نام پر مٹی پر بھی غیر قانونی ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے ، جو قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس سے عوام و ٹرانسپورٹرز کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ غیر قانونی وصولیوں کا فوری نوٹس لے کر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے ، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔دوسری جانب محکمہ معدنیات کے ٹھیکیدار چوہدری سعید احمد نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 2024 میں اوپن نیلامی کے ذریعے ٹھیکہ حاصل کیا اور وہ قواعد و ضوابط کے مطابق وصولی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوٹ ادو نیا ضلع ہے اور شیڈول ریٹ ڈپٹی کمشنر طے کرے گا، جبکہ ان پر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ادھر ڈپٹی کمشنر کے حکم پر اسسٹنٹ کمشنر فرخ محمود جنجوعہ انکوائری کر رہے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں