چولستان کے ٹوبے خشک،لاکھوں انسانوں،جانوروں کی زندگیاں دائو پر
2200ٹوبوں میں سے محض ایک درجن ٹوبوں پر تین دن کا ذخیرہ باقی،لائیو سٹاک افسر سروسز دینے کی بجائے اے سی کمروں میں بیٹھ کر رپورٹس تیار کرنے میں مصروف
بہاولپور( سٹی رپورٹر) چولستان میں درجہ حرارت بڑھنے کے باعث ٹوبوں سے پانی خشک تین لاکھ انسان اور16 لاکھ جانوروں کی زندگیوں پرموت کے سائے منڈلانے لگے واٹرسپلائی لائنوں کو بااثر چولستانیوں نے توڑ کرٹیل پرپانی پہنچانے کامنصوبہ ناکام بنادیا2200 ٹوبہ جات میں سے صرف ایک درجن ٹوبہ جات میں تین دن کاپانی دستیاب ہونے کی اطلاعات محکمہ لائیوسٹاک کے افسران چولستانیوں کوسروسزدینے کی بجائے اے سی کمروں میں رپورٹس تیارکرنے تک محددوجانوروں کی اموات کے خدشات بڑھنے لگے ، وزیراعلی پنجاب اوردیگرارباب اختیار سے سخت کاروائی کامطالبہ، تفصیل کے مطابق انتہائی باوثوق ذرائع نے انکشاف کیاہے کہ چولستان میں درجہ حرارت4a5 ڈگری سینٹی گریڈعبورکرنے اورگرمی کی شدت میں ناقابل برداشت اضافہ نے چولستان میں مقیم تین لاکھ انسانو ں اور16 لاکھ جانوروں کی زندگیوں کوخطرے میں ڈال دیاہے چولستان میں 2200 کے قریب ٹوبہ جات موجود ہیں وہاں پرمقامی چولستانی اپنے مال مویشوں کے ہمراہ بسیراکئے ہوئے تھے لیکن ٹوبہ جات سے پینے کاپانی ختم ہوجانے کے باعث اب ان کی زندگیاں خطرے میں پڑچکی ہیں اب صرف چندٹوبہ جات چوڑی والاٹوبہ کالے والاٹوبہ رنگے والاٹوبہ سمانے والاٹوبہ لاڑاں والاٹوبہ بلوچاں والاٹوبہ مہراں والاٹوبہ لاھڑاں والاٹوبہ کرلیاں والاٹوبہ کیکروالاٹوبہ لبانہ والاٹوبہ بھلن والاٹوبہ جھوماں والاٹوبہ گڈوالاٹوبہ مندووکرڑی والاٹوبہ نورے والاٹوبہ پنجروالاٹوبہ سیشن والاٹوبہ اکاں والاٹوبہ طوفانہ ٹوبہ اچلی والاٹوبہ اورکلووائی ٹوبہ میں گزشتہ بارشوں کی وجہ سے تین سے چاردن کاپانی موجود ہے۔ اس کے علاوہ شدیدگرمی کے ساتھ ساتھ چولستان سے پینے کاپانی ختم ہوچکاہے سرکاری طورپرچلائی گئی واٹرسپلائی لائنوں کوبااثرچولستانی توڑ کراپنے جانوروں کوپانی پلاتے ہیں جس کی وجہ سے پانی کابہاؤروکنامشکل اورٹیل پرپانی نہ پہنچتاہے ذرائع کاکہناہے کہ محکمہ لائیوسٹاک کے ڈائریکٹر نے لمبی تان لی ہے اے سی کمروں میں بیٹھ کرجعلی اورفرضی رپورٹس اعلی حکام کوارسال کررہاہے ڈائریکٹرلائیوسٹاک کی اس مجرمانہ غفلت کی وجہ سے مال مویشیوں کی ہلاکتوں کاشدیدخدشہ پیداہوگیاہے اس سلسلہ میں ایم ڈی چولستان شاہدحسن کلیانی نے کہاہے کہ چولستان میں خشک سالی کے خطرات موجود ہیں لیکن ہم پائپ لائنوں کے ذریعے پانی سپلائی کررہے ہیں اگرضرورت پڑی توواٹرباؤزر بھی استعمال کیے جائیں گے ۔