ایمرسن یونیورسٹی :مبینہ انتقامی کارروائیوں پر ملازمین میں بے چینی

ایمرسن یونیورسٹی :مبینہ انتقامی کارروائیوں پر ملازمین میں بے چینی

2 مرغیوں کی ہلاکت پر مالی ، احتجاجی اساتذہ کے حمایتیوں کی برطرفیاں جاری

ملتان (خصوصی رپورٹر)ایمرسن یونیورسٹی میں مبینہ انتقامی کارروائیوں کے باعث چھوٹے ملازمین کو مشکلات کا سامنا ہے ۔ ذرائع کے مطابق وائس چانسلر کی سرکاری رہائش گاہ میں مرغیوں، کبوتروں اور بکریوں کی موجودگی کے حوالے سے بھی ملازمین سے ذاتی نوعیت کے کام لئے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دو مرغیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دے کر مالی جاوید کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔ذرائع کے مطابق وائس چانسلر پیر خورشید کالونی کی پروفیسرز سٹریٹ میں بھی رہائش پذیر ہیں، جہاں صفائی ستھرائی سمیت دیگر امور کیلئے یونیورسٹی کے سرکاری ملازمین سے کام لینے کی شکایات ہیں۔دوسری جانب پنشن کنٹریبیوٹری فنڈ کے حق میں احتجاج کرنے والے اساتذہ کے ساتھ کام کرنے یا ان کی حمایت میں آواز اٹھانے والے بعض ڈیلی ویجز ملازمین کو مبینہ طور پر ملازمتوں سے فارغ کیا جا رہا ہے ۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں رجسٹرار بھی متحرک ہیں۔ صورتحال کے باعث جامعہ میں بے چینی اور تشویش پائی جاتی ہے ۔علاوہ ازیں سائیکالوجی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر قرۃ العین کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے معاملے پر خاتون محتسب پنجاب نے وائس چانسلر اور رجسٹرار کو 22 ستمبر کو طلب کر رکھا ہے ۔یونیورسٹی ترجمان سے مؤقف کیلئے رابطہ کیا گیا تاہم انہوں نے اس حوالے سے بات کرنے سے معذرت کرلی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...