شہد چوری کیس، ایس ایچ او پر ملزموں کی سرپرستی کا الزام
ٹھیکیدار حافظ محمد انور کا اعلیٰ پولیس حکام سے تحفظ اور انصاف فراہمی کا مطالبہ
وہاڑی (خبرنگار، نمائندہ خصوصی) تھانہ ساہوکا کے علاقے رکھ جملیرا کے جنگلات میں شہد کے سرکاری ٹھیکیدار حافظ محمد انور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ شہد چوری کے مقدمے میں ایس ایچ او تھانہ ساہوکا نے ملزمان سے مبینہ ساز باز کرکے انہیں رقم کے عوض چھوڑ دیا۔حافظ محمد انور کے مطابق انہوں نے 1787 پر شکایت درج کرائی، جس پر انکوائری ایس پی وہاڑی کے سپرد کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ انکوائری کے دوران ایس ایچ او کو ملزمان پیش کرنے کی ہدایت کی گئی، تاہم ایس پی نے ان کا مؤقف سنے بغیر درخواست خارج کر دی۔انہوں نے مزید الزام لگایا کہ واپسی پر ایس ایچ او نے ایس پی آفس میں افسر کے سامنے انہیں دھمکیاں دیں۔ ان کے بقول، جس شخص کو وہ شہد چوری کے مقدمے میں مرکزی ملزم قرار دے رہے ہیں، اسی کو مدعی بنا کر ان کے خلاف درخواست بھی دائر کر دی گئی اور انہیں اگلی صبح تک مقدمے میں گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی۔حافظ محمد انور نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، آر پی او ملتان راؤ کامران اور ڈی پی او وہاڑی سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کروا کر انہیں تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments