نشہ آورادویات انجکشنز اور عطائیت کو کنٹرول کرنا ایک چیلنج بن کر رہ گیا

نشہ آورادویات انجکشنز اور عطائیت کو کنٹرول کرنا ایک چیلنج بن کر رہ گیا

سرگودھا میں سب سے زیادہ عطائی اور نان کوالیفائیڈ پرسنز انسانی زندگیوں سے کھیلنے میں مصروف ،میڈیکل سٹوروں کی آڑ میں غیر قانونی طور پر پریکٹس ،بااثر افراد ہسپتال بنا کر لوٹ مار میں مصروف

سرگودھا(سٹاف رپورٹر)عطائیت کے خلاف حکومتی اقدامات اور مقامی سطح پر ناقص حکمت عملی کی وجہ سے جہاں صورتحال کا کنٹرول ایک چیلنج بن کر رہ گیا ہے وہاں منشیات کے خلاف حالیہ حکومتی آپریشن کے بعد نشہ کے عادی افراد کی جانب سے نت نئی نشہ آور ادویات اور انجکشنز کے استعمال کی بڑھتی ہوئی شرح پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ،ذرائع کے مطابق دیگر اضلاع کی نسبت سرگودھا میں سب سے زیادہ عطائی اور نان کوالیفائیڈ پرسنز انسانی زندگیوں سے کھیلنے میں مصروف ہیں، جس کی تصدیق مانیٹر نگ ادارہ بھی اپنی رپورٹ میں کر چکا ہے ،یہی نہیں بااثر افراد ہسپتال بنا کر لوٹ مار میں مصروف ہیں، اسی طرح میڈیکل سٹوروں کی آڑ میں غیر قانونی طور پر پریکٹس کی جا رہی ہے ،شہروں کی نسبت دیہی علاقوں میں نشہ آور انجکشنزو ادویات کی فروخت زیادہ ہے ، پارٹیوں میں بھی یہ نشہ آور ادویات و انجکشنز استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے ، اس کے ساتھ ساتھ جعلی اور غیر معیاری ادویات کے ساتھ ساتھ بیماریوں کی تشخیص کے عمل میں ناتجربہ کاری کے انسانی صحت پر اثرات کا اندازہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ انفارمیشن سسٹم کی حالیہ رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے جس میں بتایا گیا کہ اس امر کے باعث سرگودھا میں ہیپاٹائٹس کے مریض مجموعی آبادی کا 30فیصد، کینسر 19فیصداسی طرح جلدی و دیگر امراض میں مبتلا مریضوں کی اوسط شرح 20فیصد سے تجاوز کر چکی ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں