کچی آبادیوں کی الاٹمنٹ میں گھپلے مالکانہ حقوق ٹھپ
تحصیل سرگود ھاکی 63، سلانوالی84،بھلوال 13 ،شاہ پور اور ساہیوال کی 3 ،3 آبادیاں شامل، گھپلوں کی وجہ سے کوئی ادارہ ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں،ذرائع
سرگودھا(نعیم فیصل سے )پنجاب اسمبلی میں پیش قرار داداور اسکے تناظر میں اٹھائے جانے والے ابتدائی اقدامات کے باوجود ضلع کی کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق دینے کے حوالے سے عملدرآمد کی شرح صفر ہے ، جبکہ سائلین کی بڑھتی ہوئی مشکلات باعث تشویش بننے لگی ہیں ،ذرائع کے مطابق اس ضمن میں ایم پی اے رانا منور حسین نے تحریک التواء اسمبلی میں پیش کی تھی ،جس پر ڈپٹی سیکرٹری کالونیز IIبی او آر پنجاب نے اسمبلی میں ہونیوالے سوالات کی روشنی میں ضلع کی تمام تحصیلوں سے مطلوبہ تفصیلات طلب کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت نے بھی مالکانہ حقوق دینے کیلئے اقدامات اٹھائے اور 2024کی آخری سہ ماہی میں خصوصی سروے بھی کروایا گیا مگر سروے کے بعد معاملات پھر سے ٹھپ کر دیئے گئے ، جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ1993کی سابق صوبائی حکومت نے سرگودھا کی جناح اور بھٹو کالونیوں کو باضابطہ طور پر کچی آبادیاں ڈکلیئر کر کے مالکانہ حقوق دینے کا اعلان کیا تھا۔
جس کے بعد ہر آنیوالی حکومت کیلئے اب تک یہ صرف سیاسی نعرہ ثابت ہوا ہے ، اسمبلیوں میں سوالات اٹھاکر لوگوں کو تھوڑی بہت امید دلائی جاتی ہے مگر عملدرآمد کہیں بھی نہیں ہو رہا، جس کی ایک بڑی وجہ ان کچی آبادیوں میں الاٹمنٹوں کی وسیع پیمانے پر بے ضابطگیاں بھی بتائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے کوئی ادارہ ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں، اس وقت بھی تحصیل سرگودہا کی 63کچی آبادیوں کے 5642 خاندان ’ سلانوالی کی 84 کچی آبادیوں کے 2552 خاندان ’ بھلوال کی 13 کچی آبادیوں کے 1409 خاندان ’ شاہ پور اور ساہیوال کی 3 کچی آبادیوں کے 106 خاندان تاحال مالکانہ حقوق سے محروم ہیں اور درخواستوں کے نام پر انہیں صرف خوار ہی کیا جا رہاہے ۔