نجی سکولوں کا مخصوص دکانوں سے کتب یونیفارم خریدنے کیلئے دبائو کارروائی ٹھپ ہوگئی

نجی سکولوں کا مخصوص دکانوں سے کتب یونیفارم خریدنے کیلئے دبائو کارروائی ٹھپ ہوگئی

بیشتر سکولوں کا من پسند دکانداروں کیساتھ گٹھ جوڑ، 300 فیصد زائد قیمت پر کتب فروخت، محکمہ تعلیم نے کریک ڈائون کا حکم دیا،ٹیمیں تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی ،پیشرفت نہ ہوسکی

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) والدین کو نامزد دکانوں اور اپنے سکولوں سے کتب اور یونیفارم خریدنے پر مجبور کرنیوالے نجی تعلیمی اداروں کے خلاف کاروائی اثر ورسوخ کے باعث مصلحت کا شکار ہو کر رہ گئی ہے ،ذرائع کے مطابق کئی سالوں سے یہ پریکٹس عام ہے کہ بیشتر نجی تعلیمی اداروں کی انتظامیہ من پسند دوکانداروں سے گٹھ جوڑ کر کے اپنے سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین کو نئے تعلیمی سال کے آغاز پر انہی دوکانوں اور اپنے سکولوں سے کتب، یونیفارم وغیرہ کی خریداری کے لئے مجبور کرتی ہیں، جہاں 3سو فیصد سے زائد قیمتوں پر یہ اشیاء والدین کو فراہم کی جاتی ہیں اور اب بھی لوٹ مار کا ایک الگ بازار گرم ہے ، کتابوں کاپیوں پر من مرضی کی قیمتیں درج کی جارہی ہیں جن پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں رکھا جاتا تاہم محکمہ تعلیم پنجاب کی طرف سے اس سلسلہ میں بھرپور کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کرتے ہوئے سی ای او ایجوکیشن اتھارٹی نے ٹیمیں تشکیل دینے کی ہدایت کی مگر ابتدائی کاغذی کاروائی کے بعد مزید پیش رفت نہ ہو سکی ، معلوم ہوا ہے کہ اس گھناؤنے کاروپار میں ملوث افراد کی ایک بڑی تعداد محکمہ تعلیم کے ریٹائرڈ ملازمین و اساتذہ کی ہے جن کی مداخلت اور سیاسی دباؤ کی وجہ سے عملدرآمد مصلحت کا شکار ہے، ایجوکیشن اتھارٹی حکام کا کہنا ہے کہ مردم شماری اور سالانہ امتحانات کے بعد ہی ایکشن متوقع ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں