نمکین پہاڑی پانی نہروں میں چھوڑدیا اراضی ناقبل کاشت

نمکین پہاڑی پانی نہروں میں چھوڑدیا اراضی ناقبل کاشت

کاشتکاروں کو کروڑوں روپے کا نقصان اب تک ہو چکا ،لیبارٹری میں پانی ناقابل استعمال قرار دیا گیا،درجنوں دیہات کے مکینوں کی درخواستیں ردی کی ٹوکری کی نذر

سرگودھا(سٹاف رپورٹر)مالکان اور محکمہ انہار کی ملی بھگت ، پہاڑی سے نکلنے والا نمکین پانی نہروں میں چھوڑ نے کے باعث سینکڑوں ایکڑ اراضی ناقابل کاشت ہو گئی جبکہ درجنوں دیہات کے سینکڑوں افراد سرکاری دفاتر میں کاک بال بن کر رہ گئے ہیں، ذرائع کے مطابق ڈرلنگ کے دوران پہاڑی سے نکلنے والے نمکین پانی کو غیر قانونی طور پر نہروں میں چھوڑنے کا سلسلہ گزشتہ کئی سال سے جاری ہے ،جس کی روک تھام کیلئے 123،124،131،127 جنوبی سمیت ملحقہ درجنوں دیہات کے مکین درخواستیں دے دے کر تھک چکے ہیں، جبکہ متذکرہ نہروں سے استعمال کئے گئے پانی سے زمینیں تیزی سے ناقابل کاشت ہو رہی ہیں اور اس ضمن میں کاشتکاروں کو کروڑوں روپے کا نقصان پہلے ہی ہو چکا ہے ، واٹر ٹیسٹنگ لیبارٹری اس پانی کوانتہائی ناقص اور فصلوں کیلئے غیر موزوں قرار دے چکی ہے ، جبکہ کاشتکاروں کی طرف سے دائر کردہ درخواستوں پر حکام نے مقامی انتظامیہ کو واضح ڈائریکشن دی جس پروقتی کاروائی کر کے حکام کو مطمئن کر دیا گیا مگر مستقل عملدرآمد میں محکمہ انہار اور لیز مالکان رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، دوسری طرف گزشتہ روز سابق اسسٹنٹ کمشنر سلانوالی نے بھی اپنی رپورٹ میں متذکرہ صورتحال سے کمشنر و ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کرتے ہوئے فوری ایکشن لینے کی ضرورت پر زور دیا مگر صورتحال جوں کی تو ں ہے اب بھی کئی کاشتکاروں کی درخواستیں مختلف فورمز پر افسران کی زیر سماعت ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا، کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ متعلقہ ایس ڈی او انہار لیز مالکان سے باضابطہ بھاری بھتہ وصول کرتے ہیں ،جبکہ ناقابل کاشت رقبے کا تیزی سے پھیلاؤ باعث تشویش بنتا جا رہا ہے ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں