نمبر داری سسٹم کو فعال کرنے کا عمل ایک چیلنج بن گیا

نمبر داری سسٹم کو فعال کرنے کا عمل ایک چیلنج بن گیا

نمبر داری سسٹم کو فعال کرنے کا عمل ایک چیلنج بن گیا ادارہ کی کارکردگی بہتر نہیں ہو رہی،ریکوری ،بنیادی امور مشکلات کا شکار

سرگودھا(سٹاف رپورٹر)سرگودھا سمیت ڈویژن بھر میں سیاسی مداخلت اور اثر رورسوخ کی کھینچا تانی کی وجہ سے نمبر داری سسٹم کو فعال کرنے کا عمل ایک چیلنج کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے ، ذرائع کیمطابق سابقہ ادوار کے نمبر داری سسٹم کے غیر فعال ہونے کے باعث زرعی انکم ٹیکس، واٹر ریٹ سمیت دیگر ریکوری کے علاوہ بہت سے بنیادی امور انتہائی مشکلات کا شکار ہیں جس کا زیادہ بوجھ محکمہ ریونیو کے فیلڈ سٹاف کو اٹھانا پڑتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ادارہ کی کارکردگی بھی بہتر نہیں ہو رہی ، جبکہ نمبرداروں کی ایک بڑی تعداد کے وفات پا جانے پر ان کی جگہ نئی نامزدگیوں کا عمل مختلف تنازعات کا شکار ہو نے سے صورتحال کو مزید گھمبیر بنا رہا ہے ،جبکہ موجود نمبردار بھی لگ بھگ غیر فعال ہیں،جس پر حکومت پنجاب نے نمبر داری سسٹم کو ترجیح بنیادوں پر فعال کرنے کیلئے ضلعی حکومتوں کو خصوصی ٹاسک سونپا تھا،اور اس حوالے سے سیکرٹری بورڈ آف ریونیو پنجاب کی جانب سے ٹی او آرز بھی جاری کئے گئے تھے ،جن کے مطابق نئے سسٹم میں متذکرہ ریکوریوں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں انکروچمنٹ، گرین کلین مہم پر عملدرآمد سمیت مختلف نوعیت کے اضافی اختیارات بھی نمبر داروں کو تفویض کئے گئے ہیں، تاہم ضلعی حکومتوں کی ڈنک ٹپاؤ پالیسی، علاقائی اثر ورسوخ رکھنے والے افراد کی کھینچا تانی،برادرم ازم اور سیاسی مداخلت کی وجہ سے نمبر داری سسٹم کو فعال کرنا ایک چیلنج کی صورت اختیار کر چکا ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ زیادہ تر علاقوں میں نمبر داروں کی سیٹیں خالی ہیں اور نئے بنائے گئے نمبر داروں میں سے اکثریت اس کی اہل نہیں، جب تک مربوط حکمت عملی نہیں اپنائی جاتی ، نمبر داری سسٹم غیر فعال ہی رہے گا۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں