کندیاں :یوسی علووالی میں دریائی و نہری کٹاؤ سنگین
کندیاں :یوسی علووالی میں دریائی و نہری کٹاؤ سنگین ایک چوتھائی آبادی اور پورا زرعی رقبہ دریا برد ،ہنگامی اقدامات کا مطالبہ
کندیاں (نمائندہ دنیا) کندیاں یونین کونسل علووالی میں دریائی و نہری کٹاؤ سنگین صورت اختیار کر گیا، جس پر علاقہ مکینوں نے حکام سے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق تحصیل پپلاں کی پسماندہ یونین کونسل علووالی دریائے سندھ پر قائم چشمہ بیراج کے جنوب میں مشرقی کنارے پر واقع ہے ، جہاں دریائی کٹاؤ ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے ،یونین کونسل علووالی کے موضع ڈھینگانہ کے مقام پر دریائے سندھ کے شدید کٹاؤ کے ساتھ ساتھ چشمہ پاور پلانٹس سے نکالی گئی دو نہروں کے پانی کے باعث کٹاؤ نے بھی خطرناک شکل اختیار کر لی ہے ۔ مسلسل کٹاؤ کے باعث یونین کونسل کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی اور پورا زرعی رقبہ دریا برد ہو چکا ہے ، جس سے علاقہ مکین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔اسی مقام پر واقع تاریخی شیر شاہ سوری روڈ بھی دریائی اور نہری کٹاؤ کے باعث شدید خطرے سے دوچار ہے ، جس کے متاثر ہونے کی صورت میں علاقائی آمدورفت اور تاریخی ورثے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے ۔
علاقہ مکینوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب، کمشنر سرگودھا اور ڈپٹی کمشنر میانوالی سے مطالبہ کیا ہے کہ دریائے سندھ اور دونوں نہروں کے کٹاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر انتظامات کیے جائیں۔ علاقہ کے عوام نے تجویز دی ہے کہ اگر دونوں نہروں کے پانی کے بہاؤ کا رخ مغرب کی جانب موڑ کر چشمہ بیراج کی سیدھ میں چھوڑ دیا جائے تو نہ صرف یونین کونسل علووالی کا زرعی رقبہ محفوظ اور دوبارہ آباد ہو سکتا ہے بلکہ تاریخی شیر شاہ سوری روڈ بھی کٹاؤ سے محفوظ ہو جائے گا۔