اعلی انتظامیہ بااثر پٹواریوں کے آگے بے بس

اعلی انتظامیہ بااثر پٹواریوں کے آگے بے بس

پٹواریوں اور ان کے منشی حضرات کے تبادلے کرنے کے ساتھ پرائیویٹ افراد کو نکالا گیا بعدازاں مبینہ دباؤ کے باعث بالآخر انتظامیہ نے ہتھیار ڈال دیئے چیکنگ بیلنس ٹھپ ہونے سے اکثر پٹوارخانوں میں دو سے تین پرائیویٹ افراد اب بھی سرکاری امور انجام دے رہے ہیں،رشوت کی وصولی معمول بن گئی

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) پٹوار خانوں میں سرکاری امور کی انجام دہی کیلئے پرائیویٹ افراد رکھنے پر عائد پابندی اور چیک اینڈ بیلنس کے حوالے سے حکومتی گائیڈ لائن پر عملدرآمد سوالیہ نشان؟جبکہ اعلی انتظامیہ بااثر پٹواریوں کے آگے بے بس اور عوام خوار ہو کر رہ گئی ،حکومت نے اس سلسلہ میں مختلف اصلاحات کیں ، جس کے پیش نظر گزشتہ سال سرگودھا سمیت ڈویژن بھر میں پٹواریوں اور ان کے منشی حضرات کے تبادلے کرنے کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ افراد کو نکالا گیا مگر بعدازاں مبینہ دباؤ کے باعث بالآخر انتظامیہ نے ہتھیار ڈال دیئے ،اس کے ساتھ ساتھ دیگر اصلاحات پر عملدرآمد اور چیکنگ بیلنس ٹھپ ہونے سے اکثر پٹوارخانوں میں دو سے تین پرائیویٹ افراد اب بھی سرکاری امور انجام دے رہے ہیں اور انہیں اہم ترین ریکارڈ تک بھی رسائی حاصل ہے ، اسی طرح فرد یا کسی بھی دستاویز کے اجراء یا تصدیق کیلئے کئی گنا زائد فیس اوربالخصوص انتقالات کی مد میں مبینہ طور پر10سے 15ہزار روپے رشوت کی وصولی معمول بنی ہوئی ہے ، یہی نہیں جائز کام بھی بغیر رشوت نہیں کئے جا رہے ،جس کے باعث سائلین کو سخت مشکلات کا سامنا ہے ،انہوں نے وزیر اعلی پنجاب سے فوری نوٹس لے کر سخت اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں