فیکٹریوں کو بیرون شہر منتقل کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا
فیکٹریوں کو بیرون شہر منتقل کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا 5ہزارسے زائد عمارتوں کی نشاندہی ،قوائد و ضوابط کے برعکس گنجان آبادیوں میں قائم
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) رہائشی علاقوں میں قائم فیکٹریوں کو بیرون شہر منتقل کرنے کا خواب پانچ سال بعد بھی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکااورضلعی حکومتیں عملدرآمد میں مکمل ناکام ہو چکی ہیں، اسسٹنٹ اکانومسٹ ایڈوائزر iiانڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی طرف سے سرگودھا سمیت پنجاب بھر کی 5ہزارسے زائد عمارتوں کی نشاندہی کی گئی جو قوائد و ضوابط کے برعکس گنجان آبادیوں میں قائم ہیں اور انہیں شہروں سے باہر منتقل کرنے کیلئے مختلف ادوار میں ہونیوالی کوششوں سے تاحال کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہ آ سکی، ان میں سرگودھا شہرکی 76،بھکر کی 28،میانوالی 6اور خوشاب کی 8فیکٹریاں شامل ہیں، جو شہری آبادیوں کیلئے انتہائی رسک قرار دی جا چکی ہیں،زیادہ تر فیکٹریاں سیاسی افراد کی ہیں جنہیں شہروں سے باہر منتقل کرناایک خواب بن کر رہ گیا ہے اور پانچ سالوں کے دوران اس خصوصی منصوبہ پر اٹھنے والے ابتدائی اخراجات قومی خزانے پر بوجھ ہیں، اس ضمن میں ممکنہ حادثات کے پیش نظر نقصان کے اندیشہ کا اظہار بھی کیا اور حکومت پنجاب سے کہا گہاہے کہ ضلعی حکومتوں کو اس سلسلہ میں حکومتی احکامات پر بلا تفریق عملدرآمد کا پابند بنایا جائے ۔