گرانفروشوں نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالے
ریستورانوں اور شاپس مالکان اشیاء کی قیمتوں میں 3سو فیصد تک اضافہ کر کے مسافروں کو لوٹ رہے ، نرخ نامے بھی آویزاں نہیں کررکھے انتظامیہ سب اچھا کا راگ الاپنے میں مصروف ،ایف ڈبلیو اوکے چیف آپریٹنگ آفیسر کو پہلے بھی آگاہ کیا گیا تھا مگر کسی نے کوئی کارروائی نہیں کی
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) لاہور اسلام آباد موٹر وے سروس ایریاز اور انٹر چینجز کے باہر قائم ہوٹلوں اور کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنیوالی دیگر شاپ،سٹالز مالکان نے حالیہ رمضان المبارک کے دوران کمزور ایڈمنسٹریشن کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے گرانفروشی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالے ،مقرر کردہ نرخ نامہ کی کھلی خلاف ورزی بدستور جاری جبکہ انتظامیہ سب اچھا کا راگ الاپنے میں مصروف ہے ،باعث تشویش امر یہ ہے کہ ایف ڈبلیو اوکے چیف آپریٹنگ آفیسر کی جانب سے متعلقہ اضلاع کے سول ایڈمنسٹریشنزکوکو پہلے بھی آگاہ کیا گیا تھا مگر مناسب حکمت عملی اختیار نہ کرنے اور ڈنک ٹپاؤ پالیسی کے باعث صورتحال یہ ہے کہ انتظامیہ نے آخری مرتبہ موٹر وے سروس ایریاز پر اشیائے ضروریہ کے نرخ اکتوبر2025کو مقرر کئے تھے جس کے بعد نہ تو ان پر عمل درآمد کروایا گیا اور نہ ہی بار بار حکومتی ہدایات کے باوجود اشیاء کے ریٹس پر نظر ثانی کرتے ہوئے صورتحال کے تدارک کیلئے اقدامات کئے گئے ۔
ریستورانوں اور شاپس مالکان اشیاء کی قیمتوں میں 3سو فیصد تک اضافہ کر کے مجبور مسافروں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں کاؤنٹرز یا نمایاں مقامات پر ہوٹل و شاپس مالکان نے نرخ نامے بھی آویزاں نہیں کررکھے ، اس ضمن میں مسافروں کا کہنا ہے کہ ریسٹورنٹس کا عملہ سرکاری ریٹ لسٹ دکھانے اور اس کے مطابق بل وصول کرنے سے گریز کرتا ہے اسی طرح ٹک شاپس پر مہنگی اشیاء فروخت کی جارہی ہیں مسافر چونکہ جلدی میں ہوتے ہیں اس لئے وہ اپنی جیبوں پر پڑنے والے ڈاکہ کے احتجاج سے بھی معذور ہیں مسافر ویگنوں کے ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کو ہوٹل مالکان مراعات دیکر ان کے ذریعے بے بس مسافروں کو کھلے عام لوٹ رہے ہیں انہوں نے مطالبہ کیا ہے طے شدہ سرکاری نرخ نامے کے مطابق اشیاء خوردونوش کی فراہمی کویقینی بنانے اور سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کرنیوالے ہوٹل مالکان اور ان کے عملہ کیخلاف سخت کاروائی کرکے مسافروں کا تحفظ کیا جائے ۔