ای بز پورٹل منصوبہ ابتدائی مرحلے میں مشکلات کا شکار

ای بز پورٹل منصوبہ ابتدائی مرحلے میں مشکلات کا شکار

ای بز پورٹل منصوبہ ابتدائی مرحلے میں مشکلات کا شکارپورٹل پر تقریباً ساڑھے 7 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ، التوا کا شکار

سرگودھا (سٹاف رپورٹر )حکومت پنجاب کی جانب سے سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری طبقے کی سہولت کے لیے شروع کیا گیا ای بز پورٹل (E-Biz) منصوبہ ابتدائی مرحلے میں ہی ناقص منصوبہ بندی اور انتظامی خامیوں کے باعث مشکلات کا شکار ہو گیا ہے ، جس سے سینکڑوں درخواست گزار شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے کاروبار دوست انیشیٹو ای بز پورٹل کا سرگودھا ڈویژن میں باقاعدہ آغاز اکتوبر 2025 میں کیا گیا تھا، جس کے تحت چاروں اضلاع کے سرکاری اداروں خصوصاً میونسپل کارپوریشن، فوڈ اتھارٹی، لوکل گورنمنٹ، ماحولیات اور دیگر محکموں میں این او سی کے حصول کا عمل آن لائن کیا گیا تاکہ شہریوں کو دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔

اس منصوبے کے تحت لائسنس، اجازت نامے ، رجسٹریشن اور لینڈ یوز کنورژن کی درخواستیں آن لائن جمع کروا کر شفافیت اور سہولت کو فروغ دینا تھا، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آ رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق اب تک ڈویژن بھر میں ای بز پورٹل پر تقریباً ساڑھے 7 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جن میں سے بڑی تعداد تاحال زیر التوا ہے ۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ کئی کیسز مہینوں سے زیرِ التوا ہیں جبکہ ہدف کے مطابق ان کا فیصلہ 5 دن میں ہونا چاہیے تھا۔شہریوں کے مطابق متعدد محکموں میں نہ تو عملے کو مکمل تربیت حاصل ہے اور نہ ہی آن لائن سسٹم کے درست استعمال کی مہارت موجود ہے ، جس کے باعث درخواست دہندگان کو ایک بار پھر دفاتر کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں۔مزید شکایات میں بتایا گیا ہے کہ پرانے لائسنسوں میں تبدیلی یا دیگر تکنیکی مسائل کے لیے سسٹم میں واضح آپشن موجود نہیں، اور متعلقہ افسران بھی رہنمائی فراہم کرنے سے قاصر ہیں، جس سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔سائلین نے مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ ای بز پورٹل کی کارکردگی کا فوری نوٹس لیا جائے اور نظام کو عملی طور پر مؤثر بنایا جائے تاکہ اس منصوبے کے اصل مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں