اوور لوڈنگ، نئی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار، عوامی تشویش

اوور لوڈنگ، نئی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار، عوامی تشویش

اوور لوڈنگ، نئی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار، عوامی تشویش اثر و رسوخ رکھنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی نہ ہونے پر بھی سوالات

سرگودھا (سٹاف رپورٹر)حکومت کے لوڈ ایکسل پروگرام کے باوجود اوور لوڈنگ اور ایس او پیز کی مبینہ خلاف ورزیوں کے باعث حال ہی میں تعمیر ہونے والی سڑکوں کو نقصان پہنچنے کی شکایات سامنے آئی ہیں، جبکہ متعلقہ نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ذرائع کے مطابق پتھر مارکیٹ کڑانہ ہلز کے سٹون کریشرز سے منسلک ڈمپرز میں مقررہ حد سے زائد تعمیراتی میٹریل لوڈ کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ قواعد کے مطابق ایک ڈمپر میں مقررہ وزن کے مطابق بجری، پتھر اور ریت لوڈ کی جانی چاہیے ، تاہم مبینہ طور پر اس سے زیادہ لوڈنگ کا رجحان برقرار ہے ۔رپورٹ کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ایس او پیز جاری کیے گئے تھے جن کے تحت سٹون کریشر مالکان کو اوور لوڈنگ کنٹرول کرنے کا پابند بنایا گیا تھا، تاہم عملی طور پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے بعض گاڑیوں کے چالان تو کیے جاتے ہیں، تاہم مقامی سطح پر اثر و رسوخ رکھنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی نہ ہونے پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔اوور لوڈنگ کے باعث حال ہی میں تعمیر ہونے والی متعدد سڑکوں کے بیٹھنے اور ٹوٹ پھوٹ کی اطلاعات ہیں، جس سے نہ صرف عوامی وسائل کے ضیاع بلکہ قومی خزانے کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔یہ سڑکیں زرعی اجناس کی منڈیوں تک رسائی کے لیے بھی اہم ہیں، جس پر مقامی کاشتکاروں اور آبادیوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں