230محققین میں2کروڑ10لاکھ کے ریسرچ پروڈکٹیویٹی ایوارڈز تقسیم
یونیورسٹی آف سرگودھا نے رواں سال 1400 ہائی امپیکٹ تحقیقی مقالے شائع کیے ، 81 انٹیلیکچوئل پراپرٹی رائٹس جمع کرائے جو سرکاری یا نجی جامعہ کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہیں
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) یونیورسٹی آف سرگودھا نے معیاری تحقیقی کام کرنے پر 230 محققین میں 2 کروڑ 10 لاکھ روپے کے ریسرچ پروڈکٹیویٹی ایوارڈز تقسیم کر دیے ۔آفس آف ریسرچ انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن کے زیر اہتمام ملک فیروز خان نون بزنس سکول میں ریسرچ پروڈکٹیویٹی ایوارڈز 2025 کی تقریب منعقد ہوئی جس میں اعلیٰ معیار کی تحقیق میں نمایاں خدمات انجام دینے والے 230 اساتذہ و محققین میں مجموعی طور پر 2 کروڑ 10 لاکھ روپے کے ایوارڈز اور انعامی چیکس تقسیم کیے گئے ۔تقریب میں اخوت فاؤنڈیشن کے بانی و چیئرمین ڈاکٹر محمد امجد ثاقب (ستارہ امتیاز، ہلالِ امتیاز) تقریب کے مہمانِ خصوصی جبکہ وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا پروفیسر ڈاکٹر قیصر عباس مہمانِ اعزاز تھے ۔
سابق وفاقی سیکرٹری اور سماجی شخصیت محمد سلیم احمد رانجھا، پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود سرور اعوان، ڈائریکٹر اورک پروفیسر ڈاکٹر احمد رضا بلال، ڈینز، ڈائریکٹرز، چیئرپرسنز اور محققین نے بھی تقریب میں شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد امجد ثاقب نے یونیورسٹی کی تحقیقی کارکردگی کو دیگر جامعات کے لیے قابلِ تقلید قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحقیق کا مقصد صرف علمی مباحث تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے معاشرے کو درپیش مسائل کے حل، کاروباری جدت، ویلیو ایڈیشن اور سماجی ترقی سے جوڑنا ضروری ہے ۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قیصر عباس نے ایوارڈ حاصل کرنے والے اساتذہ کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ مضبوط تحقیقی کلچر ہی علمی برتری، عالمی مسابقت اور ادارہ جاتی ترقی کی بنیاد بنتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی آف سرگودھا نے رواں سال تقریباً 1400 ہائی امپیکٹ تحقیقی مقالے شائع کیے ، 81 انٹیلیکچوئل پراپرٹی رائٹس جمع کرائے جو ملک کی کسی بھی سرکاری یا نجی جامعہ کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہیں، 600 سے زائد صنعتی روابط اور معاہدے قائم کیے جبکہ مختلف وزارتوں کو 160 سے زائد ایڈوائزری اور پالیسی بریفز بھی ارسال کیں۔