دریاؤں اور نالوں کے اطراف تجاوزات بد ستور قائم

دریاؤں  اور  نالوں  کے  اطراف  تجاوزات  بد  ستور  قائم

متعدد علاقوں میں عملی کارروائی بھی شروع نہیں ہو سکی ،تجاوزات سیلابی نظم و نسق اور ہنگامی امدادی کارروائیوں میں سب سے بڑی رکاوٹ کئی اضلاع میں دریائی خاطر خواہ آپریشن دیکھنے میں نہیں آیا، جب عملی کارروائی ہی مکمل نہیں ہوئی تو مطلوبہ پیش رفت رپورٹ کس بنیاد پر مرتب کی گئی

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) پنجاب میں ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے دریاؤں اور ندی نالوں کے اطراف قائم تجاوزات کے خاتمے کے احکامات تاحال مؤثر انداز میں نافذ نہ ہو سکے ، دلچسپ امر یہ ہے کہ متعلقہ اداروں سے 15 جولائی 2026 تک عملدرآمد کی پیش رفت رپورٹ طلب کی گئی تھی، تاہم متعدد علاقوں میں نہ صرف تجاوزات برقرار ہیں بلکہ کئی مقامات پر عملی کارروائی بھی شروع نہیں ہو سکی ،دریائی گزرگاہوں اور دہانوں کے ساتھ ساتھ نہروں کے اطراف قائم تجاوزات سیلابی نظم و نسق اور ہنگامی امدادی کارروائیوں میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ کانفرنس کے فیصلے کی روشنی میں پی ڈی ایم اے ، محکمہ آبپاشی اور ضلعی انتظامیہ کو مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے فوری طور پر تجاوزات ختم کرنے اور اس کی تصدیق کے لیے متعلقہ کوآرڈینیٹس ،فائلیں ایس یو پارکو پورٹل پر اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی ،اورتمام ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو یہ بھی ہدایت دی گئی تھی کہ 15 جولائی 2026 تک عملدرآمد کی پیش رفت رپورٹ فلڈ فورکاسٹنگ کمیشن اور جنرل ہیڈکوارٹرز کے ساتھ شیٔر کی جائے ، جبکہ سیلاب سے متعلق معلومات بھی باقاعدگی سے متعلقہ اداروں تک پہنچائی جائیں۔ ذرائع کے مطابق مقررہ مدت گزرنے کے باوجود سرگودھا سمیت کئی اضلاع میں دریائی تجاوزات کے خلاف خاطر خواہ آپریشن دیکھنے میں نہیں آیا، جس سے سوالات جنم لے رہے ہیں کہ جب عملی کارروائی ہی مکمل نہیں ہوئی تو مطلوبہ پیش رفت رپورٹ کس بنیاد پر مرتب کی گئی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...