گندم، آٹا کے من مانے نرخ، ناجائز منافع خوری
محکمہ خوراک، ضلعی انتظامیہ ،مجسٹریٹس ناجائز منافع خوروں کے سامنے بے بس،گندم 4700روپے من اور آٹا145 کا کلو ہوگیا،غریب کیلئے روٹی کاانتظام مشکل
فیصل آباد(عبدالباسط سے )محکمہ خوراک، ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے مبینہ طور پر ناجائز منافع خوروں کے سامنے گھٹنے ٹیک لئے ۔ اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 4700 روپے فی من جبکہ آٹے کی قیمت 145 روپے فی کلوگرام تک جا پہنچی ۔ آٹے اور گندم کی بڑھتی قیمتوں سے عام آدمی خصوصی طور پر مزدوراور غریب طبقے کیلئے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا مشکل ہوگیا۔ اسکے باوجود حکام قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور ناجائز منافع خوروں کیخلاف کارروائیاں کرنے میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ذرائع کے مطابق فیصل آباد میں محکمہ خوراک، ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی جانب سے ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے سامنے مکمل طور پر خاموشی اختیار کر لی گئی ۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اوپن مارکیٹ میں گندم اور آٹے کی قیمت عام آدمی کی پہنچ سے باہر نکلتی جا رہی ہے ۔ رواں دنوں میں اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 4700 روپے فی من، آٹا چکیوں پر فروخت ہونے والے دیسی آٹے کی قیمت 145 روپے کلو جبکہ فائن آٹے کے 15 کلوگرام تھیلے کی قیمت 2200 روپے سے بھی تجاوز کرچکی ہے ۔ ایسی صورتحال میں عام آدمی خصوصی طور پر مزدور طبقے کیلئے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا بھی محال ہو کر رہ گیا ہے ۔
ذرائع کے مطابق شہریوں کی جانب سے آٹے اور گندم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر متعلقہ حکام کو متعدد بار شکایات کا اندراج بھی کروایا گیا لیکن متعلقہ اداروں کے افسروں اور ملازمین کی جانب سے ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائیاں عمل میں نہیں لائی جاتیں۔ ذرائع سے اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ متعلقہ اداروں کے افسروں اور ملازمین کی جانب سے ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائیاں کرنے کی بجائے مبینہ طور پر ان سے بھاری نذرانے وصول کرتے ہوئے خاموشی اختیار کی جارہی ہے ۔شہریوں نے مطالبہ کیاہے کہ بڑھتی ہوئی آٹے اور گندم کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے محض دعوے کرنے کی بجائے حکام سخت اور فوری اقدامات اٹھائیں تاکہ شہریوں کو حقیقی معنوں میں ریلیف میسر آسکے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments