25.3ملین بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانا ہے ، سیکرٹری تعلیم
30,543غیررسمی مراکز میں 34,256اساتذہ، 12,38,573بچوں تعلیم حاصل کر رہے ،رپورٹ
اسلام آباد(خصوصی رپورٹر) پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن (پی آئی ای) نے جاپان کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) کے تعاون سے \"سالانہ شماریاتی رپورٹ 2024-25\" اور \"فیڈرل نان فارمل ایجوکیشن سٹرٹیجی کا اجراء کر دیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں قائم 30,543 غیر رسمی مراکز میں 34,256 اساتذہ 12,38,573بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔ ان مراکز میں 83 سے 86 فیصدخواتین اساتذہ کی تعیناتی کی بدولت طالبات کے داخلوں کی شرح 55 فیصد تک پہنچ گئی ہے ، جبکہ مجموعی طور پر 15,747 مہاجرین اور 11,774سے زائد اقلیتی بچے بھی ان اداروں سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان مراکز میں 97 فیصد پرائمری، 3 فیصد مڈل اور مڈل ٹیک جبکہ ایک فیصد بالغوں کی خواندگی کے لیے مختص ہیں۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی سیکرٹری تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ندیم محبوب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد حکومت کی اولین ترجیح ملک کے 25.3 ملین آؤٹ آف سکول بچوں کو تعلیمی دھارے میں واپس لانا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئی اسٹریٹجی کے ذریعے ایک ایسا متحد نظام بنایا جا رہا ہے جو پرائمری سے میٹرک تک جدید فنی مہارتیں فراہم کرے گا تاکہ یہ بچے معاشی ترقی میں حصہ لے سکیں۔ ڈائریکٹر جنرل پی آئی ای صیغم قدیر نے خواتین اساتذہ کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور جدید ڈیٹا سسٹم (این ایف سی ایم آئی ایس) کے ذریعے ہر بچے کی تعلیمی ترقی کا مکمل ریکارڈ رکھا جائے گا تاکہ مستقبل کے لیے بہتر پالیسی سازی ممکن ہو سکے ۔ جائیکا کے چیف نمائندے یوسوکے شینوزاکی نے پاکستانی حکومت کی کوششوں کی تعریف کی اور یقین دلایا کہ جاپان \'ایکسلریٹڈ لرننگ پروگرام\' (اے ایل پی) کے نفاذ اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت میں اپنی تکنیکی و مالی معاونت جاری رکھے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments