طلبہ زہریلا پانی پینے پر مجبور، ٹیسٹنگ کا عمل تعطل کا شکار
طلبہ زہریلا پانی پینے پر مجبور، ٹیسٹنگ کا عمل تعطل کا شکار آلودہ پانی بچوں میں ہیضہ، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس امراض کا سبب بن سکتا ، ماہرین ،حکومت پنجاب کا تشویش کا اظہار محکمہ تعلیم کو فوری اقدامات کی ہدایت
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) حکومتی احکامات کے باوجود سرگودھا ریجن کے سرکاری سکولوں میں طلبہ کو فراہم کیے جانے والے پینے کے پانی کی لیبارٹری ٹیسٹنگ کا عمل گزشتہ ایک سال سے تعطل کا شکار ہے ، ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب نے سرکاری سکولوں میں فراہم کیے جانے والے پانی کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ تعلیم کے افسران کو خصوصی ٹاسک سونپا تھا۔ ابتدائی مرحلے میں چند سکولوں سے پانی کے نمونے تو حاصل کیے گئے ، تاہم انہیں لیبارٹری بھیجنے اور باقاعدہ ٹیسٹنگ کا عمل آگے نہ بڑھ سکا،ذرائع کا کہنا ہے کہ ریجن کے بیشتر سرکاری سکولوں میں یہی پانی استعمال ہو رہا ہے ، مگر ایک سال گزرنے کے باوجود یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ پانی انسانی صحت کے لیے محفوظ بھی ہے یا نہیں، ماہرین کے مطابق آلودہ پانی بچوں میں ہیضہ، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس، معدے اور آنتوں کی مختلف بیماریوں سمیت کئی مہلک امراض کا سبب بن سکتا ہے ،صورتحال پر حکومت پنجاب نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لوکل گورنمنٹ، محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم کو مشترکہ طور پر فوری اقدامات کی ہدایت جاری کر دی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments