یوریا کھاد کی ذخیرہ اندوزی روکنے کیلئے سخت نگرانی کا فیصلہ
ستمبر میں صوبے بھر میں یوریا کھاد کی طلب، رسد، سٹاک اور فروخت کے عمل پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ ،سپلائی اور ڈیلرز تک ترسیل کے تمام مراحل کی نگرانی کی جائے گیمینوفیکچررز، ڈیلرز اور سٹاکس کی باقاعدہ چیکنگ کے لیے ٹیمیں تشکیل ،آن لائن سسٹم کے ذریعے کھاد کی تیاری، سپلائی، سٹاک کی مانیٹرنگ کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت
سرگودھا(سٹاف رپورٹر ) سرگودھا سمیت پنجاب بھر میں یوریا کھاد کی ممکنہ ذخیرہ اندوزی، سمگلنگ اور منافع خوری روکنے کے لیے صوبائی حکومت نے نگرانی کا نظام مزید سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ مینوفیکچررز اور ڈیلرز کے کھاد اسٹاک کی آن لائن مانیٹرنگ کے ساتھ ساتھ فزیکل چیکنگ کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں ۔ذرائع کے مطابق حکومت نے آئندہ ماہ ستمبر میں صوبے بھر میں یوریا کھاد کی طلب، رسد، دستیاب اسٹاک اور فروخت کے عمل پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس مقصد کے لیے کھاد کی تیاری سے لے کر سپلائی اور ڈیلرز تک ترسیل کے تمام مراحل کی نگرانی کی جائے گی،ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے علم میں آیا ہے کہ گندم کی بوائی سے قبل یوریا کھاد کا ایک بڑا حصہ ممکنہ طور پر ذخیرہ کیا جا تاہے ، جبکہ اس کی غیر قانونی سمگلنگ کے خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ صورتحال کے باعث متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ کھاد کے اصل اسٹاک اور ریکارڈ کی موقع پر جانچ پڑتال کی جائے تاکہ مصنوعی قلت پیدا کرکے کاشتکاروں سے زائد قیمت وصول کرنے کے امکانات کو روکا جاسکے۔
ربیع سیزن 2026-27 کے دوران گندم سمیت دیگر فصلوں کی مقررہ کاشت کے اہداف کے حصول کے لیے حکومت نے کھاد کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے قبل از وقت اقدامات شروع کیے ہیں،اس ضمن میں ایڈیشنل سیکرٹری ٹاسک فورس نے محکمہ زراعت کے متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے مینوفیکچررز، ڈیلرز اور کھاد کے بڑے اسٹاکس کی باقاعدگی سے چیکنگ کے لیے ٹیمیں تشکیل دینے اور آن لائن سسٹم کے ذریعے کھاد کی تیاری، سپلائی، اسٹاک اور فروخت کی مانیٹرنگ یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے ،خصوصی ٹیمیں کھاد ڈیلرز کے گوداموں اور دکانوں پر موجود اسٹاک کا ریکارڈ سے موازنہ کریں گی، جبکہ غیر معمولی ذخیرہ، ریکارڈ میں تضاد یا کھاد کی غیر قانونی منتقلی کی صورت میں متعلقہ حکام کو فوری کارروائی کی رپورٹ پیش کی جائے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments