40 ہزار 670 بچوں کے داخلوں کے ہدف، صرف 5 ہزار10 کا سکولوں میں داخلہ
خوشاب بھی 13 ہزار 530 بچوں کے ہدف کے مقابلے 37ویں ، بھکر 34.54 فیصد کارکردگی کے ساتھ 21ویں ،میانوالی 46.38 فیصد داخلوں کے ساتھ صوبے میں ساتویں نمبر پر ،
سرگودھا(نعیم فیصل سے )اربوں روپے کے تعلیمی بجٹ، اوربھرپور تشہیری مہم کے باوجود حکومتی داخلہ مہم کے لرزہ خیز اعد ا دو شمار نے سرگودھا ڈویژن کی مجموعی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا،سرگودھا ڈویژن کے سرکاری سکول بچوں کو سکولوں تک لانے کی دوڑ میں صوبے کے بیشتر اضلاع سے بھی پیچھے رہ گئے ، حکومت نے رواں سال ہزاروں نئے طلبہ و طالبات کو سکولوں میں لانے کے بڑے اہداف مقرر کیے ، مگر داخلہ مہم کے اعدادوشمار نے محکمہ تعلیم کی کارکردگی کا بھانڈا پھوڑ دیا، سرگودھا، خوشاب اور بھکر کی مجموعی صورتحال انتہائی مایوس کن سامنے آئی، سرگودھا ضلع 40 ہزار 670 بچوں کے داخلوں کے ہدف میں سے اب تک صرف 5 ہزار 10 بچوں کو سکولوں میں داخل کرا سکا، یوں ہدف کی تکمیل کی شرح محض 12.32 فیصد رہی اور ضلع پنجاب کے 40 اضلاع کی درجہ بندی میں 38ویں نمبر پر جا پہنچا، ،خوشاب بھی 13 ہزار 530 بچوں کے ہدف کے مقابلے میں صرف 14.94 فیصد کارکردگی دکھا کر 37ویں نمبر پر رہا، جبکہ بھکر 34.54 فیصد کارکردگی کے ساتھ 21ویں نمبر پر موجود ہے ،
اس کے برعکس میانوالی 46.38 فیصد داخلوں کے ساتھ صوبے میں ساتویں نمبر پر ہے ، یعنی ایک ہی ڈویژن سے ملحق اضلاع کے درمیان بھی کارکردگی کا نمایاں فرق سامنے آ یاہے ، سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سرگودھا میں مقررہ ہدف کے تقریباً 87 فیصد بچے تاحال داخل نہیں ہو سکے ، حالانکہ حکومت کی جانب سے سکولوں سے باہر بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے کے لیے داخلہ مہم، تشہیری سرگرمیوں اور دیگر اقدامات کے ساتھ سرکاری سکولوں کو ہر ماہ بھاری فنڈز بھی فراہم کیے جا رہے ہیں، اس کے باوجود داخلوں کی انتہائی کم شرح نے محکمہ تعلیم کی فیلڈ مانیٹرنگ، افسران و اساتذہ کی دلچسپی اور حکومتی تعلیمی پالیسی کے عملی نتائج پر سنجیدہ نوعیت کے تحفظات پیدا کر دیے ہیں،
تعلیمی و شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سرکاری سکولوں میں معیار تعلیم کی صورتحال، تعلیمی نظام سے عوام کا کم ہوتا اعتماد، سکولوں کو آؤٹ سورس کرنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور محکمہ تعلیم کی جانب سے داخلہ مہم کو مؤثر انداز میں آگے نہ بڑھانا ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد کم ہونے کے بجائے تشویشناک حد تک بڑھ رہی ہے ۔، اور فکر انگیز بات یہ ہے کہ ایجوکیشن اتھارٹیز کے سی ای اوزصاحبان اجلاسوں میں سب اچھا کی رپورٹس دے رہے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments