اوور لوڈنگ کیخلاف کارروائیاں سرکاری ریکارڈ تک محدود، حادثات کا خطرہ موجود
بھاری وزن لاد کر دوبارہ سڑکوں پر آنے والی گاڑیوں کو روکنے کا مؤثر نظام دکھائی نہیں دیتا،کارروائی کا مقصد زائد سامان لادنے کے رجحان کا مستقل خاتمہ ہونا چاہیے
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) اوور لوڈنگ کیخلاف کارروائیاں سرکاری ریکارڈ کا پیٹ بھرنے تک محدود ہونے کا انکشاف، ایکسل لوڈ مینجمنٹ سسٹم کے تحت روزانہ کی بنیاد پر گاڑیاں پکڑنے اور تھانوں میں بند کرنے کے باوجود سڑکوں پر اوور لوڈنگ کا رجحان کم ہونے کے بجائے بڑھتا جا رہا ہے ، جس سے حادثات اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ بھی بدستور موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق اوور لوڈ گاڑیاں پکڑے جانے کے بعد بیشتر کارروائی ڈرائیور کیخلاف مقدمہ، گاڑی مالک کو وارننگ اور چند ہزار روپے جرمانے تک محدود رہتی ہے، جس کے نتیجے میں اصل مسئلہ جوں کا توں رہتا ہے اور بھاری وزن لاد کر دوبارہ سڑکوں پر آنیوالی گاڑیوں کو روکنے کا مؤثر نظام دکھائی نہیں دیتا۔ پنجاب حکومت نے ستمبر میں ایکسل لوڈ مینجمنٹ سسٹم کے مانیٹرنگ مرحلے کے بعد باقاعدہ انفورسمنٹ فیز شروع کرنے کی ہدایت کی تھی اور تاہم عملی صورتحال پر سوالات برقرار ہیں ، اوور لوڈنگ کیخلاف کارروائی کا مقصد صرف گاڑی پکڑنا یا جرمانہ وصول کرنا نہیں بلکہ مقررہ وزن سے زائد سامان لادنے کے رجحان کا مستقل خاتمہ ہونا چاہیے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments