مضاربت ومشارکت اسکینڈل عوام کے 500000000000روپے کون واپس دلائے گا
فراڈ کرنے والے کمپنی کا افتتاح کرتے ہوئے کس قدر خوش ہیں کہ اب عوام کی جیبوں سے رقم نکالنا آسان ہوجائے گا.........تین فراڈیئے......عبدالناصر(منیجر).....محمد انعام .....شفیق الرحمٰن.......دھوکے بازوں نے عوام کو جھانسہ دینے کے لیےجعلی کمپنی کی شان دارتقریبات منعقد کیں فراڈ کھلنے کے بعد رقوم واپس لینے والوں کا جعلی کمپنی کے استقبالیہ پر ہجوم
پاکستان 14اگست 1947ء کو اسلام کے نام پر قائم ہوا، لیکن 67سال گزرنے کے باوجود پاکستان میںاسلامی نظام کا نفاذ ہوسکا، نہ ہی اس جانب کوئی پیش رفت ہوئی۔ مختلف امورکے حوالے سے وقتاًفوقتا مختلف مسائل سامنے آتے رہے، لیکن حکم رانوں اور سیاسی قیادت نے بیش تر اوقات ان مسائل کے حل کے لیے کبھی سنجیدہ کوشش کی ہی نہیں، یہی وجہ ہے کہ جہاں اس ملک کو دیگر سنگین مسائل کا سامنا رہاہے، وہی مالیاتی امور کے حوالے سے کرپشن ملک کے لیے ہمیشہ ایک ناسور ثابت ہوئی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سزا اور جزا کا تصور قریباً ختم ہوچکا ہے۔ آج یہ حالت ہے کہ کرپشن اور لوٹ مار’’ جدید لائف اسٹائل‘‘ کی شکل اختیار کرگیاہے اور ان دھندوں میں ملوث افراد مختلف انداز اور طریقوں سے عوام کو لوٹتے ہیں، پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے، تو درجنوں نہیں، سیکڑوں اسکینڈل نظر آتے ہیں ۔ مضاربت اورکاروباری مشارکت کا ایک بڑا اسکینڈل گزشتہ دنوں منظر عام پر آیا، جس میں ایک اندازے کے مطابق500ارب روپے سے زائد کی رقم کا فراڈ کیاگیاہے۔ فراڈ کا شکار ہونے والوں میں اکثریت(قریباً95فی صد) مذہبی طبقے اور ان لوگوںکی ہے، جو پاکستان کے بینکنگ کے نظام کو شک وشبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں، کہ ہمارے بینکنگ کے نظام میں کسی نہ کسی حوالے سے سود کا عنصر موجود ہے، جب کہ اسلام میںسود لینے اور دینے کو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ قراردیا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ مضاربت اورکاروباری مشارکت اسکینڈل کا شکا ر ہونے والوں میں شامل بڑا طبقہ بینکوں سے لین دین میں گریز کر نے والوں کا ہے۔ اگرچہ بعض بینکوں نے اسلامی بینکنگ کے نام پر مختلف شعبے قائم کیے ہیں، لیکن ان شعبوں میں بھی کہی نہ کہی سود کا اثر نظر آتاہے، دوم یہ کہ نفع کے معاملے میں بینکوںکے پیکیجزنہ صرف مثاثر کن نہیں، بل کہ مایوس کن ہیں، اس لیے پاکستانی بینکنگ کے نظام سے متنفر افراد مختلف اسکنڈلز کا شکارہوجاتے ہیں، جس کی واضح مثال ماضی کا الائنس موٹرا سکینڈل، تاج کمپنی اسکینڈل، ڈبل شاہ اسکینڈل اور اب تازہ ترین مضاربت اور کاروباری مشارکت کا ٹرپل شاہ اسکینڈل ہے۔ ان اسکینڈلز کے بنیادی کردار ہمیشہ عوام کو حلال نفع کے نام پر لوٹتے رہے ہیں۔ حال ہی میں منظر عام پر آنے والا مضاربت وکاروباری مشارکت اسکینڈل ملکی تاریخ کا سب سے بڑا مالیاتی اسکینڈل بن کر سامنے آیاہے اور اس کے تمام کرداروں کے حوالے سے سامنے آنے والے اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ چند سالوں کے دوران مجموعی طور پر500 ارب روپے کا فراڈکیاگیاہے۔ ان اسکینڈل کے نمایاں کرداروں میں مفتی احسان الحق کے 280 ارب روپے، زید شاہان صدیقی المعروف سیٹھ میمن ڈیفنس والا 125 ارب روپے، شفیق الرحمن 80 ارب سے زائدروپے اورمفتی اسامہ ضیاء 20 ارب روپے سے زائدکے فراڈمیں ملوث ہونے کا دعویٰ کیا جا رہاہے۔ اسی طرح مختلف چھوٹے گروپ بھی ہیں، جن کا فراڈ کروڑوں میں بتایا جاتاہے ۔ مفتی اسامہ ضیاء کا فراڈ چند ماہ قبل ہی راولپنڈی میں منظر عام پر آیا اور تاحال یہ شخص مفرور ہے اور اطلاع ہے کہ وہ پاکستان سے فرار ہوچکاہے۔ رمضان المبارک سے پہلے راولپنڈی کے مفتی احسان الحق کا فراڈ اس وقت سامنے آیا، جب نیب نے مفتی احسان الحق کوگرفتار کیا اور متاثرین کو رقوم کی ادائیگی کی یقین دہانی پرمفتی احسان الحق کو چھوڑ دیا گیا، مگر یقین دھانی پوری نہ ہونے پر ستمبر2013ء میں دوبارہ گرفتارکیاگیا۔ مفتی احسان الحق اور مفتی اسامہ ضیاء نے ہیڈآفس کے طور پر راولپنڈی میں اپنے دفاتر قائم کیے تھے، جہاں ملک بھر بالخصوص پنجاب، خیبر پختونخوا، آزادکشمیر،گلگت بلتستان اور قبائلی علاقہ جات کے لوگوں سے اربوں روپے شرعی منافع کے نام پر وصول کیے۔ ان کا دعویٰ تھاکہ وہ شریعت کے طریقہ مضاربت اور کاروباری مشارکت کی بنیاد پر بڑے پیمانے کا کاروبار کررہے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے بعض نام نہاد اور جدت سے متاثر علما کا سہارا بھی لیا، مگر جید علما نے ہمیشہ ان تمام امور کومشکوک قرار دیتے ہوئے عوام کو اس کاروبار میں شرکت کرنے سے بچنے کی ہدایت کی، لیکن عوام نفع کی لالچ میں جید عالمِ دین کی ہدایات بھلا بیٹھے اور فراڈیوںکے فریب میں آکر اربوں روپے سے محروم ہوگئے۔ مختلف ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق، مفتی احسان الحق اور مفتی اسامہ ضیاء 10سے 20 فی صد تک منافع اپنے ایجنٹوں کو دیتے اور وہ ایجنٹ 5 سے 15فی صد تک عوام کو منافع کی مد میں دیتے، یہ منافع عام بینکوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تھا۔ ان لوگوں نے مختلف ناموں سے اپنے دفاتر اور کئی ادارے قائم کئے ہوئے تھے۔ کئی برس تک یہ فراڈ جاری رہا،اس دوران کسی سرکاری ادارے کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ قانونی طریقہ سے ان کی گرفت کرتا، اس میں محکمہ اینٹی کرپشن، ایف آئی اے، نیب، اسٹیٹ بنک آف پاکستان، سیکورٹی ایکسچینج سمیت دیگر شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق فراڈکرنے والوں نے ابتدائی طورپر لوگوں کو بروقت ادائیگیاں کیں، جس سے لوگوں کا اعتماد بڑھا اور دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے طول وعرض میں یہ وبا پھیل گئی۔ فراڈ میں ملوث افراد اور ادارے رقوم کے لین دین کے لیے اگرچہ بینکوں کو ذریعہ بناتے تھے، لیکن کسی ادارے کی بجائے انفرادی ناموں کو استعمال کیا جاتا تھا، جب کہ ایجنٹ رقوم کے حصول کے لیے بینکوں یا دیگر ذرائع پر انحصار کرنے کی بجائے نقد پر توجہ دیتے اور متاثرین کو کو ئی مصدقہ ثبوت فرائم کرنے کی بجائے اپنے نام نہاد اداروں کی پرنٹ شدہ رسیدیں دیتے اور بعض تو اعتماد کی وجہ سے کوئی ثبوت بھی نہیں دیتے اور اگر کسی نے مطالبہ کیا تو کہا جاتا کہ یہ کاروبار اعتماد پر ہے، اگر آپ کو اعتماد نہیں تو اس میں شرکت نہ کریں، جس سے عوام مزید گم راہ ہوئے۔ مختلف ملنے والے اعداد وشمار کے مطابق، متاثرین کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے، جن کے پاس اپنی رقوم کے حوالے سے کوئی بھی ثبوت موجود نہیں، جس کی وجہ سے وہ نہ کسی جگہ اپنی رقم کی وصولی کا دعویٰ کرسکتے اور نہ ہی ان کی داد رسی ممکن ہے۔ راولپنڈی کی طرز کا کاروبار کراچی میں قریباً 10 برس قبل مردان کے شفیق الرحمٰن والد، شیر بہاد ر نے شروع کیا، جو بنیادی طور پر کراچی سائٹ ایریا، شیر شاہ مارکیٹ میں کیبل کا کاروبار کرتا تھا۔ واضح رہے کہ اس علاقے میں کیبل کا کاروبار نفع بخش سمجھاجاتاہے۔ شفیق الرحمٰن نے ایک چھوٹی سی دکان میں دوستوں سے رقم لے کر کیبل کا کام شروع کیا اور منافعے میں انہیں بھی شریک کیا، پھر اچانک کاروباری مضاربت اور مشارکت کے نام پر لوگوں سے رقوم جمع کرنا شروع کردیں۔ اب یہ معاملہ دوستوں سے نکل کر عوام تک پہنچ گیا۔ مضاربت و کاروباری مشارکت کے اس کام میں تیزی 2008ء میں آئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں افراد اس فراڈ کا شکارہوگئے۔ متاثرین کے دعووں کے مطابق، شفیق الرحمٰن 80ارب سے زائد کے فراڈ میں ملوث ہے، جب کہ ان کے والد شیر بہادر نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کے بیٹے شفیق الرحمٰن نے 36 ارب روپے دینے ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ مئی 2013ء تک لوگوں کونفع ہمیشہ بروقت ادا کیا اور یہ نفع 10سے 30 فی صد کے درمیان ہوتا تھا، تاہم اس میں سے ایک بڑا حصہ ایجنٹوں کے ہاتھ لگ جاتا تھا اور عام لوگوں کو10سے20 فی صد ہی ملتا۔ راولپنڈی میں مفتی اسامہ ضیاء کے فرار اور مفتی احسان الحق کی گرفتاری کے بعد کراچی میں مضاربت ومشارکت کے دونوں بڑے کرداروں نے رقوم کی ادائیگیوں کی بجائے رقوم کی وصولی میں توجہ دی۔مبینہ نیک نامی اور شہرت کی وجہ سے شفق الرحمٰن کے پاس سندھ اور بلوچستان کے بعد پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، قبائلی علاقہ جات اور بیرون ملک میں موجود پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے اپنی رقوم ایجنٹوں کے ذریعے جمع کرادی۔ اس میں وہ لوگ بھی شامل تھے، جن کو مفتی اسامہ ضیاء اور احسان الحق کے فراڈ میں نقصان ہوچکا تھا، لیکن لالچ’’ بری بلاہے کہ مصداق‘‘ انہوںنے نفع کی لالچ میں مزید اپنی اصل رقم بھی گنوادی۔ 19اگست تک شفیق الرحمٰن لوگوں کو نفع کی ادائیگی میں تاخیرکے حوالے سے مختلف جواز پیش کرتارہا اور اسی دوران 19اگست 2013 کو مبینہ طورپر لاہورسے پی آئی اے کی پروازپی کے 303 کے ذریعے کراچی آتے ہوئے ائیرپورٹ کے لائونج سے غائب ہوگیا۔ پھردوروز بعد مبینہ طور پر گھروالوں کو اطلاع ملی کہ شفیق الرحمٰن کو اغوا کرلیا گیا ہے اور اغواکار 15کروڑ روپے کا مطالبہ کررہے ہیں، پھر پتا چلا کہ وہ 12کروڑ پر راضی ہوگئے ہیں۔ عجیب تماشا یہ تھاکہ اربوں کا کاروبار کرنے والے شفیق الرحمٰن کے گھروالوں کے پاس 12کروڑ نہیں تھے اور اس کے لیے وہ مختلف لوگوں سے رابطے کرتے رہے۔ 10ستمبر2013ء تک شفیق الرحمٰن کے والدین اور دیگر اہل خانہ اسی بات پر اصرار کرتے رہے کہ شفیق الرحمٰن اغوا ہوا ہے، لیکن ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق، چند ماہ قبل مفتی احسان الحق نے اپنی گرفتاری کے بعد اداروں پر واضح کردیاکہ اس کاروبار کا ایک بڑا کردار کراچی کا شفیق الرحمٰن ہے، مفتی احسان الحق نے اس حوالے سے مکمل اطلاعات اور معلومات ادارے کو فراہم کردی تھیں، جس پر شفیق الرحمٰن چونکنا ہوا اورکام سمیٹتے ہوئے ملک سے نکلنے کی کوششیں شروع کردیں، تاہم سرکاری اداروں نے اس پر مکمل نظر رکھی۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ شفیق الرحمٰن نے لاہور سے واپسی کے بعد ملک سے فرار ہونے کی مکمل تیاری کر لی تھی، لیکن ائیرپورٹ کے لائونج سے ہی قانون نافذ کرنے ایک ادارے نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا اور تادم تحریر وہ اسی ادارے کی تحویل میں ہے۔ تاہم کسی سرکاری ادارے نے اس کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی اتنے بڑے فراڈ کے حوالے سے کوئی ردعمل ظاہر کیاہے۔ 9ستمبر 2013ء تک شفیق الرحمٰن کے والد شیر بہاد ربھائی محمدانعام، محمد بختاور، محمد وقاص، والدہ اور اہلیہ میٹرویل میں اپنے گھر میں موجود تھے۔ متاثرین کو دلاسہ دے رہے تھے، اسی دوران متاثرین کی بڑی تعداد نے شفیق الرحمٰن کی نام نہاد فیکٹریوں ’’رداکلکشن اور سیمی ٹیکسٹائل ‘‘پردھاوا بول دیا۔ مجموعی طورپر تین فیکٹریوں میں سے دو قریباًخالی ہیںاور ایک میں چند کروڑ روپے کی مشینیں پڑھی ہوئی تھیں، جن کے بارے اطلاع ہے کہ بعض متاثرین لے گئے۔ متاثرین کے مطابق، ان تینوں فیکٹریوں کی مجموعی مالیت 50کروڑ بھی نہیں ہے، جب کہ بعض متاثرین ایسے بھی ہیں، جن کادعویٰ ہے کہ ان میں سے ایک ایک کے 80کروڑ روپے لگے ہوئے ہیں۔ شفیق الرحمٰن کے کاروبار کا دل چسپ پہلو یہ تھاکہ وہ بیش ترلوگوں کو رقوم کے حوالے سے کوئی بھی ثبوت فراہم نہیں کرتا تھا، اگر کسی نے مطالبہ کیاتو صرف ایک سادہ کاغذ ہی پر لکھ کر دے دیا۔ ان کی مبینہ گم شدگی کی اطلاع کے ساتھ ہی متاثرین ان کے گھر اور فیکٹریوں میں جمع ہوناشروع ہوئے، جن کی تعداد سیکڑوں میں بتائی جاتی ہے۔ 9ستمبر2013ء تک نوبت شفیق کے اہل خانہ سے تلخ کلامی، گالم گلوچ اور دھمکیوں تک اُتر آئی، اسی دوران ایک چیک بوس ہونے کے کیس میں شفیق الرحمٰن کے تینوں بھائیوں محمدانعام، محمد بختاور، محمد وقاص کو پولیس نے حراست میں لے لیا اور 13ستمبر 2013ء تک ان کے بارے میں بھی کسی کو اطلاع نہیں تھی کہ وہ کہاں اور کس کے پاس ہیں؟ 13ستمبر 2013ء کو موچکو گوٹھ تھانے میںمضاربت و کاروباری مشارکت کے 5 ملزمان کی گرفتاری ظاہر کی گئی، جن میں محمد انعام اور دیگر 4 ملزمان شامل ہیں ۔شفیق الرحمٰن کی پر اسرار گم شدگی اور باقی بیٹوں کی گرفتاری کے بعد ان کے والد شیر بہادر بھی اپنے دیگر اہل خانہ کے ساتھ 10ستمبر2013ء سے روپوش ہیں اور منیجر عبدالناصر بھی تاحال روپوش ہے۔ ذرائع کا کہناہے کہ ان کی روپوشی کی وجہ متاثرین کی آئے روز کی تلخ کلامی تھی۔ کچھ ذرائع یہ دعویٰ بھی کررہے ہیں کہ شفیق الرحمٰن کی والدہ کو حالیہ واقعے کے بعد دوبار اور والد کو ایک بار دل کا دورہ پڑچکا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق، شفیق الرحمٰن نے مختلف مذہبی اداروںسے اس کاروبار کے جائز ہونے کے حوالے سے فتویٰ لینے کی کوشش کی، لیکن علماء نے سختی سے منع کردیا، تاہم جامعہ بنوریہ عالمیہ سے اپنے سوال میں ہیر پھیر اور جعلی کاروبار دکھاکرکے فتویٰ حاصل کرنے میں کام یاب ہوا۔ جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس مولانا مفتی محمد نعیم اور دیگر ذمّے داروں نے کے مطابق، اس فتوے کے غلط استعمال ہونے کے انکشاف کے بعد ہم مختلف مجالس، تقریبات اور جمعہ کے خطبات میں اس سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کرچکے ہیں، بل کہ 30اگست 2012ئ، 23اپریل 2013 اور7ستمبر 2013کو مقامی اخبار میں اشتہارات کے ذریعے عوام کو بھی انتباہ کیا کہ وہ اس طرح کے کاروبار سے دور رہیں۔ ساتھ ہی اپنے ادارے کے بعض افراد کے ملوث ہونے کی اطلاع پر 3مارچ2013کو ادارے کے ملازمین سے مضاربت کے کاروبار سے لاتعلقی اور ملوث نہ ہونے کے حوالے سے حلف نامہ وصول کیا، جس میں ان کو واضح طور پر کہاگیاکہ اس طرح کی کسی بھی سرگرمی میں ملوث ہونے پر ان کوجامعہ سے بے دخل کردیا جائے گا۔ صورت حال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے 23 اپریل 2013ء کوجامعہ کے رئیس دالافتاء مفتی عبداللہ شوکت نے بھی مقامی اخبار میں اشتہار کے ذریعے مضاربت کے کاروبار سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’ بعض کاروباری کمپنیوں سے میرا اور جامعہ بنوریہ عالمیہ کا تعلق جوڑا جا رہاہے، جو حقیقت کے برخلاف ہے، میں اس کی نفی اور پرزور مذمت کرتاہوںاور آئندہ اس سے اجتناب کیا جائے، بہ صورت دیگر مجھے اور جامعہ کو ملوث کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘‘ ایک اور وضاحتی اور تنبیہی اشتہار مقامی اخبار میں15ستمبر 2013ء کو جامعہ بنوریہ عالمیہ نے شائع کروایا۔ اسی طرح وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان اور جامعہ اشرفیہ لاہور کے مولانا فضل الرحیم اور دیگرجید علماء نے اپنے خطوط کے ذریعے واضح کیاکہ بعض افراد بظاہر علماء سے محبت کے دعوے دار ہیں اور ان میں سے بعض چالاک قسم کے لوگوں نے تاجروں کے بھیس میں بہت سی تجارتی کمپنیاں بنالی ہیں اور علماء کو اپنی خیر خواہی کا جھانسہ دے کر عوام سے ایجنٹوںکے ذریعے رقوم وصول کر رہے ہیں۔ کئی برسوں کی شب و روز کی محنت اور تحقیق کے نتیجے میں ہم پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کہ در حقیقت یہ کوئی کاروبا اور مضاربت نہیں، بل کہ دجل و فریب سے بھرپور حرام پر مشتمل کاروبار ہے، جس میں ایک گھنائونی سازش کے تحت علماء اور مذہبی طبقے کو ملوث کیا جارہاہے۔ شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان نے اپنے خط میں تمام علماء کو محتاط کرتے ہوئے کہا کہ یہ میری درد بھری نصیحت، بلکہ وصیت ہے کہ خدارا، اس فتنے سے امت کی حفاظت کے لیے تمام صلاحیتیں کام میں لائیں اور ان علماء کا دست و بازو بنیں، جو اس سلسلے میں محنت کر رہے ہیں۔ تبلیغی مرکز راولپنڈی، جامعہ مسجد ذکریا نے بھی اس گروہ سے9 نومبر2012ء کو مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا اور عوام کو اس سے دور رہنے کی تلقین کی۔ شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے بھی مضاربت اور کاروباری مشارکت کے کاروبار سے نہ صرف لاتعلقی کا اظہار کیا، بل کہ اس کو رد بھی کیا ۔ ملک کے طول عرض کے متعدد جید علماء اسے پہلے ہی مسترد کرچکے تھے، لیکن فراڈ میں ملوث عناصر علماء کا نام استعمال کرتے رہے اور ایک اندازے کے مطابق، مجموعی طور پر 50 ہزار سے زائد افراد کی جانب سے غیر قانونی طریقہ سے رقوم جمع کرانا، جہاں سادہ لوح عوام کا علماء پر اعتماد کاثبوت تھا، وہیں اس عمل کو لالچ اور رات و رات امیر بننے کی خواہش کا نتیجہ قرار دینا بے جانہ ہوگا۔ یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ اس فراڈ سے منسلک افراد نے مذہبی لبادہ اڑھ کرمذہبی افراد کو مکمل طور پر معاشی تباہی کا شکار بنادیا۔ ایک اندازے کے مطابق، اس کاروبار سے منسلک 95 فی صد لوگ مذہبی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کاروبار کے اصل چہرے اور ایجنٹوں نے نظریات اور جذبات کا بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے جھوٹ اور فریب کی بنیادپربعض بڑے معروف مذہبی اداروں اور شخصیات کے نام پر جعلی فتوے تیار کیے۔ فراڈسے منسلک افراد نے کس طرح غلط بیانی سے کام دیتے ہوئے فتوے حاصل کیے، اس کی ایک جھلک اس کاروبار کے اہم اور مرکزی کردار ’’ٹرپل شاہ‘‘ زید شاہان صدیقی (المعروف سیٹھ میمن ڈیفنس والا)کا 15جون 2013کو جامعہ علوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن سے حاصل کردہ وہ فتویٰ ہے، جس میں موصوف نے انتہائی غلط بیانی اور جھوٹ و فریب سے کام لیتے ہوئے فتوی حاصل کیا۔ موصوف کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق کرنسی کے کاروبار سے منسلک خاندان سے ہے اور وہ خود 1984ء سے یہ کام کر رہاہے، ہمار ا اصل دفتر مانچسٹر انگلینڈ میں ہے، پہلے ہم محدود کام کرتے تھے اب حالات اور ڈیمانڈ کے مطابق ہم نے کام کو کافی حدتک بڑھایا ہے اور ضرورت کے تحت اپنے قریبی دوستوں کو بھی شامل کیا ہے، ہمارے ساتھ مقامی ڈائریکٹر سطح کے لوگ بھی شامل ہیں اور یہ کام روزانہ کی بنیادپر ہوتا ہے، مکمل رقم کرنسی کے خرید کے وقت دی اور لی جاتی ہے اور دوسرے دن فروخت کرکے اپنی رقم یعنی ملکیت واپس ہوجاتی ہے۔ نفع کے ساتھ جو ایک سے دوفی صد ہوتاہے، پہلے دو چار دفعہ نقصان بھی ہواہے، جو دو فی صد تک ہوا تھا، یہ کام بولی یا ادھار پر نہیں ہوتا،جس میں منافع مقررہوتاہے وغیرہ وغیرہ ‘‘۔ زید شاہان صدیقی المعروف سیٹھ میمن ڈیفنس والا نے اس کے مطابق، فتویٰ حاصل کیا۔ جو جواب مل، موصوف نے کمالِ ہوشیاری سے اس فتوے کا انتہائی ناجائز استعمال کیا اور صرف چندماہ میں ہی متاثرین کے دعووں کے مطابق 125ارب روپے کی رقم ہڑپ کرلی اور کراچی چھوڑ کر کوئٹہ اور لاہور کو اپنا مسکن بنایا۔ زید شاہان صدیقی المعروف سیٹھ میمن ڈیفنس والاکے بارے میں اطلاعات ہیں کہ موصوف 2011ء سے قبل سے ہی اس کام سے مسلک تھا، لیکن زیادہ پذیرائی نہیں مل پائی، مگر موصوف نے 2013 کے ابتدائی 7ماہ میں زیادہ سے زیادہ نفع دینے کا لالچ دے کر ہزاروں افراد کو پھنسا لیا اور رقم ہڑپ کرلی۔ موصوف نے ابتدائی نفع کی بنیاد پر 40 فی صد ، پھر60 فی صد، بعدازاں 80 فی صد اور آخری دنوں میں 150 فی صد نفع پر لوگوں سے رقم وصول کی۔ اس نے فتوے کے اپنے سوال میں مبینہ کاروبار کا ذکر روزانہ کی بنیاد پر کیا تھا، مگر متاثرین سے ایک سے دو ماہ کے سودوں کے نام پر رقوم جمع کرتا رہا اور اگست تک لوٹ مار میں مصروف رہا۔ پہلے مرحلے پر نفع اور سودے کے مطابق اصل رقم واپس کرنے سے معذوری ظاہرکی اور پھر کراچی سے کر فرار ہوگیا، تاہم اس کا اسلام نامی ایک کارندہ موچھکو تھانے میں گرفتار کیا جاچکا ہے۔ مجموعی طور پر کارباری مشارکت اور مضاربت کا یہ عمل فراڈ کی بنیادپر ہی شروع کیا گیا، جس کا مقصد سادہ لوح عوام کو بے وقوف بناکر لوٹنا، مذہبی طبقے کو بدنام کرنا اور عوام کو اسلام کے نظام ’’مضاربت و کاروباری مشارکت ‘‘سے بد ظن کرنا تھا، جس میں بظاہر یہ عناصر کام یاب نظر آئے۔ امکان ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں اس اسکینڈل کے حوالے سے مزید انکشافات ہوںگے۔ مضاربت و کاروباری مشارکت کے تمام کرداروں کے حوالے سے تحقیق سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان سب کی جڑیں ایک ہی جگہ تھیں اور ان سب کا باس کوئی ایک ادارہ یا فرد ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے واقعات میں دانستہ ملوث تمام کرداروں کو بے نقاب کرکے کڑی سے کڑی سزا دی جائے، تاکہ آئندہ کوئی مذہب کے نام پر عوام کو لُوٹ سکے اورنہ ہی گُم راہ کرسکے!!