’’پولیس مقابلے ، خواتین،بچوں پر تشددکے واقعات بڑھ گئے ‘‘

’’پولیس مقابلے ، خواتین،بچوں پر تشددکے واقعات بڑھ گئے ‘‘

صرف پنجاب میں 7سو سات مقابلوں میں 9 سو ستتر ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں عدلیہ کی آزادی میں نمایاں کمی کی نشاندہی :ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ

لاہور(خبر نگار)پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن نے 2025 کی رپورٹ جاری کردی ۔ پولیس مقابلے ، خواتین اور بچوں پر تشدد، ماحولیاتی آلودگی اور بے روزگاری میں خطرناک اضافہ سامنے آیا۔ انسانی حقوق کی صورتحال پر جاری سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سال 2025 کے دوران ملک بھر میں ایک ہزار ایک سو پچپن پولیس مقابلے ہوئے ، جن میں ایک  ہزار چھ سو چھیانوے افراد ہلاک ہوئے ،صرف پنجاب میں سات سو سات مقابلوں میں نو سو ستتر ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔خواتین پر تشدد کے چھ ہزار پانچ سو تینتالیس کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ چار سو ستر خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔بچوں کے حوالے سے صورتحال بھی تشویشناک رہی، تین ہزار چھ سو سے زائد تشدد اور دو ہزار تین بچوں سے زیادتی کے کیسز سامنے آئے ۔تعلیم کے شعبے میں بحران برقرار،پاکستان میں پچیس ملین بچے سکولوں سے باہر جبکہ دس ملین بچے غذائی کمی کے باعث نشوونما سے محروم ہیں،روزانہ چھ سو پچھتر نوزائیدہ اور ستائیس مائیں قابل علاج وجوہات کے باعث جان کی بازی ہار جاتی ہیں،جیلوں کا نظام بھی شدید دباؤ کا شکار،چونسٹھ ہزار گنجائش کے مقابلے میں ایک لاکھ دس ہزار سے زائد قیدی موجودہیں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں فضائی آلودگی کی سطح عالمی معیار سے تیرہ گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

بے روزگاری کی شرح سات اعشاریہ ایک فیصد تک پہنچ گئی۔رپورٹ کے مطابق پانچ صحافیوں کو قتل کیا گیا جبکہ متعدد کو ہراساں اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑا،پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان ایک سو اٹھاونویں نمبر پر چلا گیا۔رپورٹ عدلیہ کی آزادی میں نمایاں کمی کی نشاندہی کرتی ہے جو خاص طور پر 27 ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد دیکھنے میں آئی۔ اس ترمیم نے عدالتی تقرریوں کے نظام میں انتظامیہ کے اثر و رسوخ کو بڑھا دیا ہے ۔ شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل، اور پاکستان تحریکِ انصاف کو 2024 میں حاصل مخصوص نشستوں سے محروم کر کے اسے سیاسی طور پر غیر مو ثر بنانے جیسے اقدامات نے عدالتی شفافیت اور ’اختیارات کی تقسیم‘ کے بنیادی اصولوں پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں