قومی ترانے کے خالق، قادرالکلام شاعر، ابوالاثر حفیظ جالندھری کا یوم پیدائش آج منایا جارہا

لاہور: (دنیا نیوز) قومی ترانے کے خالق، گیت کیساتھ نظم اور غزل کے قادرالکلام شاعر ابوالاثر، شاہنامہ اسلام اور قومی ترانے سے شہرت دوام پانے والے حفیظ جالندھری کا یوم ولادت آج منایا جا رہا ہے۔

ابوالاثر حفیظ جالندھری کو ان کی پہچان جہاں ان کے قومی ترانے اور ملّی شاعری ہے، وہیں وہ اپنے رومانوی کلام اور گیت نگاری کے لئے بھی مشہور ہیں، جبکہ شاہنامہ اسلام ان کی وہ منظوم تصنیف ہے جس پر انہیں فردوسیٔ اسلام کا خطاب دیا گیا تھا۔

حفیظ جالندھری 14 جنوری 1900ء کو پیدا ہوئے تھے، شاہنامہ اسلام حفیظ جالندھری کا سب سے بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے جو چار جلدوں میں شائع ہوا، حفیظ جالندھری کا دوسرا بڑا کارنامہ پاکستان کا قومی ترانہ ہے، اس ترانے کی تخلیق کی وجہ سے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

حکومتِ پاکستان نے اسے 4 اگست 1954ء کو قومی ترانے کے طور پر منظور کیا تھا، حفیظ جالندھری کی شاعری کی خوبی اس کی غنائیت ہے، انہوں نے ایسی لفظیات کا انتخاب کیا جس نے ان کی شاعری کا حُسن بڑھایا اور ہر سطح پر اس کی مقبولیت کا سبب بنی، انہوں نے دوسری جنگِ عظیم کے زمانے میں فوجی گیت بھی لکھے۔

حفیظ جالندھری کا گیت ’’ابھی تو میں جوان ہوں‘‘ بھی بہت مشہور ہوا، بلا شبہ یہ ایک پُر اثر گیت ہے جو ملکہ پکھراج کی آواز میں آج بھی سماعتوں میں رس گھول رہا ہے۔

حفیظ جالندھری نے 82 سال کی عمر پائی اور 21 دسمبر 1982ء کو دارِ فانی سے رخصت ہوگئے تھے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں