پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کی رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات، یادداشت پیش کی

اسلام آباد: (دنیا نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، لطیف کھوسہ رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات کیلئے پہنچے، انہوں نے سپریم کورٹ میں یادداشت پیش کی جس پر تمام پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کے دستخط تھے۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی صحت، زیرِ التوا مقدمات اور عدالتی کارروائیوں میں تاخیر پر شدید تحفظات کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان تحریکِ انصاف کی صحت پورے ملک کیلئے کنسرن ہے اور اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اب تک 16 مرتبہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کر چکے ہیں جبکہ یہ ان کی 10ویں مرتبہ سپریم کورٹ میں حاضری ہے، مگر اس کے باوجود مقدمات مقرر نہیں ہو رہے، 17 جنوری کو فیصلہ ہو چکا تھا، تاہم تاحال کیس سماعت کیلئے مقرر نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جیل مینوئل رولز کے تحت قیدی کے اہلِ خانہ اور معالج کو اس کی صحت کے بارے میں باقاعدہ آگاہ کرنا لازم ہے، مگر بانی کے علاج کے معاملے پر جھوٹ بولا گیا۔

بیرسٹر گوہر کے مطابق پہلے کہا گیا کہ علاج نہیں ہوا، بعد ازاں علاج تسلیم کیا گیا مگر اس کے دستاویزی ثبوت فراہم نہیں کئے گئے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے واضح کیا کہ انہوں نے آئینی عدالت کا کوئی بائیکاٹ نہیں کیا تاہم 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم پر ان کے شدید تحفظات موجود ہیں، سپریم کورٹ کے سامنے ان کے تمام فوجداری مقدمات زیرِ التوا ہیں اور عدالتِ عظمیٰ سے استدعا ہے کہ انصاف دہلیز پر ملنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بانی تک رسائی کیلئے چیف جسٹس سے استدعا کی گئی ہے اور ملاقات جس ادارے یا شخص کی ذمہ داری ہے، اسے عدالتی حکم پر عمل کرنا چاہیے، بانی کا معاملہ نہایت سنجیدہ ہے اور اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ آج پنجاب اور خیبرپختونخوا کے تمام پارلیمنٹیرینز بھی موجود ہیں، انصاف فراہم کرنا عدالتوں کی ذمہ داری ہے اور ماضی میں سپریم کورٹ میں جب لوگ شکایت کرتے تھے کہ مقدمہ مقرر نہیں ہو رہا تو چیف جسٹس ازخود کیس مقرر کر دیا کرتے تھے، مگر آج ان کے مقدمات مسلسل تاخیر کا شکار ہیں۔

اس موقع پر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ چیف جسٹس نے پمز اسپتال سے میڈیکل رپورٹ دینے کی بات کی تھی، مگر تاحال رپورٹ فراہم نہیں کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں آئے روز افسوسناک واقعات پیش آ رہے ہیں، لوگوں کے گھروں میں میتیں پڑی ہیں اور پورا علاقہ سوگ کی کیفیت میں ہے، ایسے حالات میں بسنت کے فیسٹیول منانا سمجھ سے بالاتر ہے اور اس پر سنجیدہ قومی غور و فکر کی ضرورت ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں