امریکی دباؤ، نیتن یاہو نے فوج کو لبنان میں حملوں سے روک دیا

تل ابیب: (دنیا نیوز) اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے فوج کو لبنان میں حملوں سے روک دیا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے لبنان کے ساتھ سیز فائر کے احکامات جاری کر دیے، گزشتہ روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے میں 16 افراد شہید ہوئے تھے، صہیونی فورسز نے رہائشی آبادیوں کو نشانہ بنایا تھا۔

عرب نیوز کے مطابق اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا کہ وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے فوج کو لبنان میں اپنی کارروائیاں روکنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ یہ فیصلہ نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر کی قیادت میں کیے گئے صورت حال کے جائزے کے بعد کیا۔

تاہم ان ہدایات میں ان نام نہاد ’’سیکیورٹی زونز‘‘ سے انخلا شامل نہیں ہے جو جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج کے زیرِ کنٹرول ہیں۔ اسرائیل کے چینل 12 کے مطابق نیتن یاہو اور وزیر دفاع کا یہ فیصلہ امریکا کے ساتھ ہم آہنگی میں کیا گیا۔

اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع نے سرکاری نشریاتی ادارے کو بتایا کہ فوج کو جنوبی لبنان میں خطرات کے خاتمے کے لیے مکمل آزادی حاصل رہے گی، اور اگر حزب اللہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تو فوج سخت ردعمل دے گی، ایک اسرائیلی اہلکار کے مطابق فوج لبنان میں ’’یلو لائن‘‘ کے اندر آزادانہ کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔

دوسری جانب لبنان کی سول ڈیفنس ایجنسی نے بتایا ہے کہ ہفتے کے روز جنوبی لبنان کے ضلع نباطیہ پر جاری اسرائیلی حملوں میں 16 افراد ہلاک ہو گئے۔ سول ڈیفنس اہلکاروں نے 16 لاشیں اور 12 زخمی اسپتال منتقل کیے، جب کہ ٹیمیں صبح سویرے سے علاقے میں جاری حملوں کے جواب میں امدادی کارروائیاں کر رہی ہیں۔

لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (این این اے) نے رپورٹ کیا ہے کہ آدھی رات کے بعد سے ہفتے کی صبح تک اسرائیلی فضائی حملوں میں جنوبی لبنان کے ایک درجن سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے کئی حملے نباطیہ اور اس کے اطراف میں ہوئے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں