’مریم کی دستک ایپ‘ سرکاری خدمات کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کیلئے اہم پیش رفت
لاہور: (دنیا نیوز) کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ پاکستان میں اگر کسی عام شہری کو کسی سرکاری دفتر میں کوئی کام پڑ جائے تو اس کی کیا حالت ہوتی ہے؟ سرکاری دفتر کا نام سنتے ہی ذہن میں لمبی لائنیں، رش، فائلوں کے انبار اور ایک میز سے دوسری میز کے چکر آ جاتے ہیں۔ ایک معمولی سا کام بھی بعض اوقات پورا دن بلکہ کئی دن لے لیتا ہے۔
ذرا تصور کیجیے، آپ کو صرف ڈومیسائل بنوانا ہے، آپ صبح سویرے دفتر پہنچتے ہیں، گیٹ پر پوچھتے ہیں، پھر ریسیپشن، پھر ایک کمرے سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے کمرے بھیج دیا جاتا ہے، گھنٹوں انتظار کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ کسی ایک دستاویز کی فوٹو کاپی کم ہے، پھر دوبارہ باہر جائیں، فوٹو اسٹیٹ کروائیں، واپس آئیں، دوبارہ قطار میں لگیں، اور پھر کسی دوسرے کاؤنٹر پر کوئی نیا اعتراض سامنے آجائے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں عام شہری کے لیے سرکاری کام کسی امتحان سے کم نہیں ہوتے، بزرگ افراد، خواتین، معذور شہری اور دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگوں کے لیے یہ مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں، ایسے میں یہ سوال ہمیشہ اٹھتا ہے کہ جب ٹیکنالوجی نے زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو آسان بنا دیا ہے، جب کھانا گھر پہنچ سکتا ہے، ٹیکسی گھر آ سکتی ہے اور بینک موبائل فون میں سمٹ سکتا ہے، تو سرکاری خدمات گھر بیٹھے کیوں نہیں مل سکتیں؟
اسی سوال کا جواب دینے کی کوشش پنجاب حکومت نے "مریم کی دستک" پروگرام اور اس کی موبائل ایپ کے ذریعے کی ہے، آج ہم جانیں گے کہ یہ ایپ واقعی عوام کے لیے سہولت ہے یا صرف ایک اچھا تصور۔
اصل مسئلہ صرف کاغذی کارروائی نہیں تھا بلکہ شہری اور حکومت کے درمیان موجود فاصلہ تھا، پہلے شہری کو ہر کام کے لیے سرکاری دفتر جانا پڑتا تھا جبکہ اس پروگرام کا بنیادی تصور یہ ہے کہ اب حکومت شہری کے دروازے تک آئے گی۔
یہ پروگرام دو طریقوں سے کام کرتا ہے، پہلا طریقہ فسیلیٹیٹر سروس ہے، اس میں شہری موبائل ایپ یا ہیلپ لائن 1202 پر درخواست دیتا ہے، جس کے بعد حکومت کا تربیت یافتہ فسیلیٹیٹر گھر آ کر دستاویزات چیک کرتا ہے، درخواست مکمل کرواتا ہے، ضروری کاغذات وصول کرتا ہے اور پورے عمل میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
دوسرا طریقہ سیلف سروس ہے، جس میں شہری خود موبائل ایپ کے ذریعے فارم بھر سکتا ہے، دستاویزات اپ لوڈ کر سکتا ہے اور اپنی درخواست کی پیش رفت بھی آن لائن دیکھ سکتا ہے۔
اگر سہولیات کی بات کی جائے تو پنجاب حکومت کے مطابق اس پلیٹ فارم پر 76 سے زائد سرکاری خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، ان میں پیدائش، وفات، شادی اور طلاق کے سرٹیفکیٹس، ڈومیسائل، فرد، رجسٹری کی نقل، ای اسٹیمپنگ، پراپرٹی ٹیکس، این او سی، گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر، ٹوکن ٹیکس، ٹریفک چالان، کرایہ دار رجسٹریشن، پولیس ویریفیکیشن، ایف آئی آر کی کاپی، کریکٹر سرٹیفکیٹ، لرنر اور ڈرائیونگ لائسنس کی خدمات سمیت متعدد دیگر سہولیات شامل ہیں۔
کاروباری افراد کے لیے بھی فوڈ بزنس لائسنس، پروفیشنل ٹیکس، واٹر کنکشن، امپورٹ ایکسپورٹ سے متعلق منظوریوں اور ماحولیات سے متعلق مختلف خدمات اس پروگرام کا حصہ ہیں۔
یہ تمام سہولیات پنجاب کے 40 سے زائد اضلاع کے شہریوں کو فراہم کی جا رہی ہیں، اگر ایپ کے استعمال میں کسی قسم کی دشواری پیش آئے یا آپ گھر بیٹھے فسیلیٹیٹر کی مدد لینا چاہیں تو ہیلپ لائن 1202 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
بلاشبہ اتنی بڑی تعداد میں سرکاری خدمات کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لانا ایک اہم پیش رفت ہے، اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو صرف ایک نئی موبائل ایپ نہیں بلکہ پاکستان میں سرکاری خدمات کی فراہمی کا پورا نظام تبدیل ہو سکتا ہے۔
تاہم شہریوں کے لیے احتیاط بھی ضروری ہے، اس وقت سوشل میڈیا پر "مریم کی دستک" کے نام سے جعلی لنکس، غیر سرکاری ویب سائٹس اور جعلی ایجنٹس بھی سرگرم ہیں جو شہریوں سے رقم طلب کرتے ہیں، ایسے کسی بھی فراڈ سے بچنے کے لیے صرف سرکاری موبائل ایپ استعمال کریں اور کسی بھی رہنمائی یا شکایت کے لیے ہیلپ لائن 1202 سے رابطہ کریں۔
یاد رکھیں، حکومت کے مطابق "مریم کی دستک" کا کسی بھی غیر سرکاری ویب سائٹ، سوشل میڈیا پیج یا ایجنٹ سے کوئی تعلق نہیں، اس لیے صرف مستند ذرائع استعمال کریں اور ان جدید سرکاری سہولیات سے محفوظ انداز میں فائدہ اٹھائیں۔