لاہور ہائیکورٹ: بسنت کیخلاف متعلقہ محکموں کے افسران 28 جنوری کو طلب

لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ میں پتنگ بازی کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی جس میں عدالت نے ڈپٹی کمشنر لاہور، ڈی جی پی آر، اسکول ایجوکیشن اور ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران کو 28 جنوری کو طلب کر لیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک اویس خالد نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بسنت ایک بڑا فیسٹیول بننے جا رہا ہے تاہم کسی بھی قسم کے نقصان سے بچانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ بسنت منانے کی اجازت صرف مخصوص علاقوں تک محدود ہونی چاہیے جبکہ تین دن کے بجائے ایک ہی دن بسنت منانے کا حکم دیا جائے۔

دورانِ سماعت عدالتی حکم پر سپیشل سیکرٹری ہوم سمیت دیگر متعلقہ افسران عدالت میں پیش ہوئے، سپیشل سیکرٹری ہوم نے عدالت کو بتایا کہ بسنت صرف لاہور میں منائی جا رہی ہے جبکہ لاہور کے علاوہ پنجاب کے دیگر شہروں میں بسنت منانے پر مکمل پابندی عائد ہے۔

جسٹس ملک اویس خالد نے کہا کہ آج کل آگ لگنے جیسے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں، بسنت کے دوران آتشزدگی کے واقعات کی روک تھام کے لیے خصوصی اقدامات کیے جانے چاہئیں، چھوٹے بچوں پر مقدمات درج ہونے سے ان کا مستقبل متاثر ہو سکتا ہے۔

سپیشل سیکرٹری ہوم نے وضاحت کی کہ کم عمر بچوں کے خلاف مقدمات درج نہیں کیے جاتے بلکہ انہیں جرمانہ کیا جاتا ہے، عدالت نے دیگر صوبوں سے خطرناک دھاتی ڈور کی آمد روکنے کے مؤثر اقدامات کی ہدایت بھی کی۔

بسنت کے دنوں میں 70 کلینک آن ویلز فیلڈ میں موجود ہوں گی، تمام سرکاری ہسپتالوں میں خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں اور ریسکیو اداروں کو الرٹ رکھا گیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے طلبہ کو بسنت کے نقصانات سے آگاہی مہم چلانے کی بھی ہدایت کی اور کیس کی مزید سماعت 28 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کے افسران کو طلب کر لیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں