بلوچ قوم کولاحاصل جنگ کی طرف دھکیلنےنہیں دیں گے: سرفراز بگٹی

کوئٹہ:(دنیا نیوز) وزیر اعلیٰ بلوچستان بلوچ قوم کولاحاصل جنگ کی طرف دھکیلنےنہیں دیں گے۔

بلوچستان اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی تاریخ کوہمیشہ مسخ کیا گیا، انہوں نے فارم 47 کی رٹ لگائی ہوئی ہے، میں نہیں کہتا الیکشن منیج نہیں ہوا، ہوا ہوگا۔

اُنہوں نے کہا کہ ہم نے سیاسی ڈائیلاگ سےکبھی انکارنہیں کیا، آیئے! الیکشن اصلاحات اور فنڈز کی تقسیم پر بات کریں، غیر ضروری معاملات کو دہشتگردی کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی بندوق اٹھا کرمعصوم لوگوں کےقتل کی اجازت نہیں دی جاسکتی،کیا جو لاہورمیں ڈویلپمنٹ ہےوہی گوجرانوالہ میں ہے؟ کیا جو ڈیویلپمنٹ پشاور میں ہے وہی نوشہرہ میں ہے؟

یہ بھی پڑھیں:عوام کا مفاد سب سے مقدم ہے، وسائل پر پہلا حق مقامی آبادی کا ہے، سرفراز بگٹی

سرفرازبگٹی نے کہا کہ کیا نوشہرہ کےلوگ اب بندوق اٹھا لیں، منظم مہم کےتحت نوجوانوں کی ذہن سازی کی جارہی ہے، پروپیگنڈا کےتحت ایک بیانیہ کھڑا کیا گیا، منظم مہم کےتحت نوجوانوں کی ذہن سازی کی جارہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ کوئی مسئلہ ہو کسی کو بندوق اٹھانے کی اجازت نہیں، خوراج کا مذہب سےکوئی تعلق نہیں،مذہب کا نام استعمال کرتے ہیں، صوبےمیں امن اورترقی میری ترجیح ہے، بلوچ قوم کولاحاصل جنگ کی طرف دھکیلنےنہیں دیں گے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ پانچ سال میں گوادرکی ترقی پر 66 ارب روپےخرچ کیے گئے،آئیں الیکشن اصلاحات،فنڈ کی تقسیم پربات کریں،انتخابی اصلاحات وقت کی ضرورت ہے۔

سرفرازبگٹی کا مزید کہنا تھا کہ میرے ساتھ بندوق کی نوک پر بات چیت نہیں ہو سکتی، میں ریاست کی طرف سے ڈائیلاگ کے لیے تیار ہوں، سمگلنگ کو کس طرح کاروبار کہہ سکتے ہیں، سمگلنگ کاروبار نہیں ہے،اسمبلی میں آئین اورقانون کی بات کرنی چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں