چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے 5 نئے ڈیجیٹل سسٹمز کا افتتاح کر دیا
لاہور: (محمد اشفاق) پنجاب کی عدلیہ میں ڈیجیٹل گورننس کے فروغ اور عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے عدالتی کارکردگی، شفافیت اور انتظامی امور کو مزید مؤثر بنانے کے لیے پانچ نئے ڈیجیٹل سسٹمز کا افتتاح کر دیا۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم سائلین کو انصاف کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ انتظامی سطح پر بھی تاریخی اقدامات کررہی ہیں، جسٹس مس عالیہ نیلم نے عدالتی کارکردگی، شفافیت اور انتظامی امور کو مزید مؤثر بنانے کے لیے پانچ نئے ڈیجیٹل سسٹمز کا افتتاح کر دیا۔
افتتاحی تقریب میں رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ راجہ قمر الزمان، ڈائریکٹر جنرل جوڈیشل اینڈ کیس مینجمنٹ جاوید اقبال بوسال اور دیگر اعلیٰ عدالتی افسران بھی موجود تھے، اس موقع پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ عدلیہ میں ڈیجیٹلائزیشن کا بنیادی مقصد عدالتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے بروقت اور مؤثر استعمال کو یقینی بنانا ہے تاکہ سائلین کو انصاف کی فراہمی میں غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ انصاف کی بروقت فراہمی عدلیہ کی اولین ترجیح ہے اور لاہور ہائی کورٹ عدالتی اصلاحات کے ذریعے ایسا ماحول قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے، جہاں میرٹ، شفافیت اور مؤثر طرزِ حکمرانی کو فروغ حاصل ہو۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ ڈیجیٹل انقلاب کے نتیجے میں نہ صرف عدالتی کارروائی بلکہ دفتری امور کی انجام دہی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی، جس سے عوام کو بہتر اور تیز رفتار عدالتی خدمات میسر آئیں گی۔
تقریب کے دوران ایڈیشنل رجسٹرار آئی ٹی لاہور ہائیکورٹ جمال احمد نے نئے متعارف کرائے گئے، ڈیجیٹل سسٹمز پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ لانچ کیے گئے سسٹمز میں ’’سیکیور جوڈیشل کمیونیکیشن سسٹم‘‘، ’’لاہور ہائیکورٹ کیوری مینجمنٹ سسٹم‘‘، ’’پرکیورمنٹ مینجمنٹ سسٹم‘‘، ’’یوٹیلٹی بلز مینجمنٹ اینڈ مانیٹرنگ سسٹم‘‘ اور ’’نوٹیفکیشن مینجمنٹ سسٹم‘‘ شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان جدید ڈیجیٹل نظاموں کے ذریعے عدالتی اور انتظامی امور میں شفافیت، رفتار اور مؤثر نگرانی کو فروغ ملے گا، جبکہ خریداری کے عمل، سرکاری مراسلت، یوٹیلٹی بلوں کی مانیٹرنگ اور نوٹیفکیشنز کے اجراء کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مزید منظم اور قابلِ اعتماد بنایا جائے گا۔