امریکا اور اسرائیل کا ایران پر مشترکہ حملہ، 30 مقامات پر میزائل داغے، ایرانی طیارے فضا میں بلند

تہران: (دنیا نیوز) امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، آیت اللہ خامنہ ای کے دفاتر کے قریب ابتدائی حملہ کیا گیا، صدارتی دفتر کو بھی نشانہ بنایا گیا، تہران سمیت کئی شہروں پر سمندر اور فضا سے 30 مقامات پر میزائل داغ دیئے، ایران نے جواب دینے کے لیے تیاری شروع کر دی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا، اسرائیل نے ایران کے 30 مقامات کو نشانہ بنایا، ابتدائی حملہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر پر کیا گیا، تہران کے کئی علاقوں میں دھماکے ہوئے ہیں، تہران کی یونیورسٹی اسٹریٹ میں متعدد میزائل گرے، فوجی مراکز اور مقامات پر حملوں کے بعد پاسداران انقلاب کے ہزاروں ارکان ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

امریکا اور اسرائیل نے جنوبی تہران میں متعدد وزارتوں کے دفاتر کو نشانہ بنایا، ایران پر سمندر اور فضا دونوں ذرائع سے حملے کیا گیا، نورستان اور تبریز میں بھی دھماکے ہوئے ہیں، قم میں دو بڑے حملے کیے گئے، قم میں شیعہ مسلک کا سب سے برا مدرسہ موجود ہے۔

تباہ کن جواب دیا جائے گا: ایران

ایرانی حکام نے کہا ہے کہ ایران حملے کی تیاری کر رہا ہے، حملہ تباہ کن ہوگا، ایرانی رہبرِ اعلیٰ اور ایرانی صدر خیریت سے ہیں جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بڑا آپریشن شروع کر دیا ہے جو کئی دن جاری رہ سکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے بتایا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے مرکزی دفتر کو نشانہ بنایا گیا، صدارتی دفتر پر بھی حملہ ہوا، تہران کے بعد اصفہان، قم، کرج اور کرمان شاہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

ایرانی سپریم لیڈر اور صدر محفوظ

حملہ سکول اوردفتری اوقات کےدوران کیا گیا، 7 میزائل صدارتی محل اور سپریم لیڈر خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے قریب کے علاقے پر گرے۔

 قبل ازیں بتایا گیا کہ تہران کے مرکز میں تین دھماکوں کی اطلاع ملی ہے، تہران یونیورسٹی کی شاہراہ اور جمہوری علاقے کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر بھی حملہ کیا گیا ہے، ایرانی فضائی حدود بند کر دی گئی ہیں، عراق نے بھی اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔

ایرانی وزارت صحت کے مطابق ہسپتال الرٹ پر ہیں، تصدیق ہونے کے بعد زخمیوں کی تعداد کا اعلان کیا جائے گا۔

ایران میں فون اور انٹر نیٹ سروس معطل ہو گئی ہے، سٹاک مارکیٹ بھی کریش کر گئی ہے، ٹریڈنگ معطل ہو گئی، شہری تہران چھوڑ کر جانے لگے، پٹرول پمپوں پر رش لگ گیا ہے۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای  تہران میں موجود نہیں ہیں، ان کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، قطر میں امریکی سفارتخانے نے اپنے عملے کو پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا۔ 

قطری نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی حکام نے بتایا ہے کہ امریکا بھی اس حملے میں شریک ہے، امریکا اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملہ کیا ہے، ایران پر حملے مشترکہ فوجی آپریشن کا حصہ ہیں، اسرائیلی حکام کے مطابق آپریشن کا منصوبہ مہینوں پہلے بنا لیا تھا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کا مقصد ایران کے سکیورٹی آلات کو ختم کرنا ہے۔

مقبوضہ بیت المقدس میں دھماکے کی آوازیں

ادھر مقبوضہ بیت المقدس میں بھی دھماکے کی آوازیں سنی گئی ہیں، اسرائیلی فوجی حکام نے اسرائیل بھر میں سکول بند کر دیئے، عوام کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی اور عوامی اجتماعی پر بھی پابندی لگا دی، اسرائیل میں سائرن بج اٹھے۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے مضحکہ خیز دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف حفاظتی حملہ شروع کر دیا ہے، اسرائیل میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے، شہریوں کو زیر زمین بنکرز میں رہنے کی ہدایت کر دی۔

پاکستانی شہریوں کو سفر سے گریز کی ہدایت 

دوسری طرف پاکستانی وزارت خارجہ نے شہریوں کے لیے ایران کے سفر کے حوالے سے ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے، پاکستانی شہریوں کو ایران کے ہر قسم کے سفر سے گریز کا مشورہ دیا گیا ہے، ایران میں مقیم پاکستانی شہریوں کو احتیاط برتنے اور چوکس رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق ایران میں مقیم پاکستانی شہری غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں، ایران میں مقیم پاکستانی شہری سفارتی مشنز سے رابطے میں رہیں، سفارتی مشنز کے ہیلپ لائن نمبر بھی جاری کر دیئے گئے۔

ایران کے خلاف آپریشن شروع کر دیا، کئی دن جاری رہ سکتا ہے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےاپنے بیان میں کہا کہ ہمارا مقصد امریکی عوام کی سکیورٹی یقینی بنانا ہے، ایرانی رجیم کی جانب سے خطرے کو ختم کررہے ہیں، ہمارا مقصد ایرانی حکومت سے آنے والے خطرات کو ختم کرکے امریکی عوام کا دفاع کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، کچھ دیر قبل ایران پر بڑا فوجی حملہ کیا، ایران اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی تیاریاں کر رہا تھا۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر حملے میں امریکی بھی جان سے جا سکتے ہیں، ایرانی پاسدران انقلاب ہتھیار ڈالیں،آپ کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے گا، ہم ایران کی بحریہ اور میزائل پروگرام کو ختم کر دیں گے، ہم نے ایران کے ساتھ ڈیل کرنے کی بہت کوشش کی تھی۔

خیال رہے کہ ایک روز قبل ہی امریکا اور ایران میں جنیوا میں مذاکرات ہوئے تھے جن میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا، اس سے پہلے بھی امریکا اور اسرائیل نے ایران پر اس وقت حملہ کیا تھا جب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات ہو رہے تھے، یہ امریکا اور اسرائیل کا ایک سال کے دوران ایران پر دوسرا حملہ ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں