آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ایران کا نیا سپریم لیڈر کون اور کیسے بنے گا؟

تہران (ویب ڈیسک) اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تقریباً 37 سالہ قیادت کے بعد شہادت نے ملک کے مستقبل سے متعلق اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔

خامنہ ای کی شہادت کے صبح کے بعد ہی ملک میں جانشینی کے پیچیدہ عمل کی خاکہ بندی شروع ہو گئی کو نئے سپریم لیڈر کے انتخاب پر منتج ہوگا۔

ایران کے آئین کے مطابق ایک عبوری لیڈرشپ کونسل قائم کی گئی ہے جو ملک کی قیادت کے تمام فرائض سنبھالے گی۔ یہ کونسل ملک کے موجودہ صدر، عدلیہ کے سربراہ اور نگہبان کونسل کے ایک رکن پر مشتمل ہے، جسے ایران کے ایکسپڈینسی کونسل نے منتخب کیا ہے۔

عبوری کونسل کے اراکین میں اصلاح پسند صدر مسعود پزشکیان اور سخت گیر عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژه ای شامل ہیں۔

کونسل عارضی طور پر حکمرانی کرے گی، مگر ایران کے قانون کے مطابق 88 رکنی مجلس خبرگان کو جلد از جلد نیا سپریم لیڈر منتخب کرنا ہوگا، اس اسمبلی کے تمام ارکان منتخب شیعہ علماء ہیں، جنہیں ہر 8 سال بعد عوامی انتخابات کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے اور ان کی اہلیت نگہبان کونسل تصدیق کرتی ہے۔

جانشینی کے حوالے سے عوام سے دور غور و فکر ہوتا ہے، جس سے ممکنہ امیدواروں کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ابتدائی طور پر خیال کیا جا رہا تھا کہ سخت گیر صدر ابراہیم رئیسی خامنہ ای کی جگہ لینے کی کوشش کریں گے، لیکن وہ مئی 2024 میں ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے، اب خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای، 56 سالہ شیعہ عالم، ایک ممکنہ امیدوار ہیں، اگرچہ انہوں نے کبھی سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا۔

ایران میں سپریم لیڈر کے دفتر میں یہ دوسری مرتبہ ہے کہ قیادت کی منتقلی ہو رہی ہے، پہلی بار 1989 میں رہبر کبیر آیت اللہ روح اللہ خمینی کی موت کے بعد یہ عمل ہوا تھا۔ موجودہ عبوری مرحلہ اسرائیل کی جانب سے جون 2025 میں ایران پر 12 روزہ جنگ کے بعد سامنے آیا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں