غزہ: خان یونس کے ناصر ہسپتال میں طبی سامان کی شدید قلت، مریضوں کو شدید مشکلات

غزہ: (دنیا نیوز) غزہ کے شہر خان یونس میں واقع ناصر ہسپتال طبی سامان کی شدید قلت اور بڑھتے ہوئے مریضوں کے باعث انتہائی دباؤ کا شکار ہے۔

شمالی غزہ کے متعدد ہسپتال تباہ ہونے کے بعد یہ طبی مرکز ہزاروں افراد کے لئے بنیادی سہولت بن چکا ہے، اسرائیلی فوج کی پہلی کارروائی کے دوران ناصر ہسپتال میں محصور درجنوں فلسطینیوں کو زندہ دفن کر دیا گیا تھا، بعد ازاں سول ڈیفنس اہلکاروں اور ڈاکٹروں نے وہاں سے لاشیں نکالیں، جنہیں اہل خانہ بڑی مشکل سے شناخت کر سکے۔

طبی عملے کا کہنا ہے کہ طبی سامان کی شدید کمی بدستور برقرار ہے، اگرچہ بعض بین الاقوامی طبی تنظیمیں محدود امداد فراہم کر رہی ہیں تاکہ غزہ میں صحت کا نظام کم از کم سطح پر فعال رکھا جا سکے۔

شمالی غزہ کے کئی ہسپتال منظم انداز میں تباہ کئے جا چکے ہیں جس کے باعث ناصر ہسپتال پر المواصی کے علاقے سے آنے والے ہزاروں خاندانوں کے علاج کی ذمہ داری آ گئی ہے۔

ناصر ہسپتال اس وقت غزہ کے طبی نظام کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے تاہم اسرائیلی ڈرونز کی مسلسل پرواز اور غیر یقینی فوجی کارروائیوں نے علاج معالجے کے عمل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

پورے غزہ میں دل کے مریضوں کے علاج کے لئے صرف ایک خصوصی کارڈیک مشین فعال ہے جس کے باعث سیکڑوں مریض فوری علاج کے انتظار میں ہیں اور ان کی جانوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں